سوشل میڈیا پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک مختصر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے زرین خان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی میں کوئی بھی پوسٹ شیئر کرتی ہیں اُس کے نیچے ’عجیب و غریب کمنٹس آتے ہیں، گھر پر اکیلی ہوں، بوائے فرینڈ چاہیے،  جیسی غیر مناسب باتیں لکھی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ آخر لوگ ایسی باتیں لکھنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی کیوں نہیں سوچتے۔ یہ مسئلہ صرف ایک یا دو پوسٹس تک محدود نہیں بلکہ ہر پوسٹ کے ساتھ یہی صورتحال ہے۔

زرین خان کا کہنا تھا کہ چاہے وہ کسی فلم کی تشہیر کے لیے پوسٹ ہو، کسی نیک مقصد کی بات ہو یا کسی فوتگی سے متعلق خبر ہو، ان کی پوسٹس پر ہمیشہ ایسے کمنٹس کیے جاتے ہیں جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ انتہائی شرمناک ہوتے ہیں۔

اداکار کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایسے کمنٹس کرنے والے حقیقی لوگ ہیں یا جعلی اکاؤنٹس؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ لوگ حقیقی ہیں تو ان کی تربیت کہاں گئی؟ اور اگر یہ جعلی اکاؤنٹس ہیں تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟

اداکارہ نے اپنی ویڈیو میں شوبز کی دیگر شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین سے بھی پوچھا کہ کیا ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے یا صرف ان کی پوسٹس پر ایسے کمنٹس کیے جاتے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ کسی سنجیدہ معاملے جیسے کسی کی وفات پر پوسٹ کرتی ہیں، تب بھی کچھ لوگ وہاں فحش جملے اور غیر اخلاقی تبصرے لکھنے سے باز نہیں آتے، جو ان کے لیے نہایت افسوسناک بات ہے۔

زرین خان نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اکاؤنٹس کے خلاف سخت اقدامات کریں تاکہ خواتین، خاص طور پر عوامی شخصیات، کو آن لائن ہراسانی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اداکارہ کی اس ویڈیو پر بڑی تعداد میں صارفین نے تبصرے کیے اور ان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کیا۔ کئی صارفین نے کہا کہ انڈیا کی نئی نسل میں آن لائن بدتمیزی ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے، جو نہ صرف معاشرتی اقدار کے لیے خطرہ ہے بلکہ خواتین کے لیے سوشل میڈیا کو غیر محفوظ بنا رہی ہے۔