یہ شاندار تقریب ہر سال پیرس کے اس تاریخی ہوٹل میں منعقد ہوتی ہے جو کبھی پرنس رولینڈ بوناپارٹ کی رہائش گاہ تھا۔
لی بال میں دنیا کے ممتاز خاندانوں کی 21 سال سے کم عمر صرف 20 خواتین کو مدعو کیا جاتا ہے۔ اس سال حقیقی شہزادیوں، ارب پتی خاندانوں، ہولی وڈ شخصیات اور ابھرتے ہوئے عالمی ٹیلنٹس کے درمیان ایلا واڈیا کی شرکت خاص توجہ کا مرکز رہی۔
نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق ایلا واڈیا کی شرکت فوراً ان کے خاندانی نسب کی وجہ سے نمایاں ہوگئی۔ وہ قائد اعظم کی اکلوتی بیٹی دینا واڈیا کے ذریعے ان سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے معروف پارسی صنعتی خاندان کے رکن نیویل واڈیا سے شادی کی تھی، ایک ایسی شادی جس نے تاریخی طور پر ان کے اور قائد اعظم کے تعلقات کو متاثر کیا۔
دینا اور نیویل واڈیا کے بیٹے نسلی واڈیا انڈین بزنس ورلڈ کی ایک اہم شخصیت اور واڈیا گروپ کے چیئرمین ہیں۔ ان کے دو بیٹے جہانگیر واڈیا اور نس واڈیا ہیں، جب کہ ایلا واڈیا، جہانگیر واڈیا اور فیشن ڈیزائنر سیلینا واڈیا کی بیٹی ہیں۔
واضح رہے کہ پہلے کرلین بال کہلایا جانے والا لی بال 1958 سے منعقد ہو رہا ہے اور دنیا بھر کی سماجی و فیشن آئیکونز کے لیے ایک انتہائی دلکش ملاقات کا مقام تصور ہوتا ہے۔
یہ تقریب تھینکس گیونگ کے اختتام پر ہوتی ہے، جس میں نوجوان خواتین قیمتی کوٹور گاؤنز پہن کر شریک ہوتی ہیں۔ ان گاؤنز کی قیمت عموماً 50 ہزار سے 10 لاکھ ڈالرز تک ہوتی ہے اور اکثر مہمان ایفل ٹاور کے پس منظر میں ٹک ٹاک ویڈیوز بھی بناتے ہیں۔
ماضی میں اس بال میں مارگریٹ کوالی، للی کولنز، لوری ہاروی، آوا فلیپ، اسکاؤٹ اور ٹلولہ ولس بھی شرکت کر چکی ہیں۔
ایونٹ پلانر اور لی بال کی ماسٹر مائنڈ اوفیلی رینوآرڈ کے مطابق اس تقریب کا مقصد نوجوان خواتین کو شادی کے لیے متعارف کرانا نہیں، بلکہ انہیں ایک شاندار جشن کا حصہ بنانا ہے جو ان کے انداز، دوستیوں اور ایک رات کی پریوں جیسی کہانی پر مبنی ہوتا ہے۔
کاؤنٹس لارا کوسیما ہنکل وون ڈونرزمارک نے 2023 میں کہا تھا کہ لی بال نوجوانوں کے لیے میٹ گالا ہے۔
اس سال ایلا واڈیا نے جس منتخب گروپ میں شمولیت اختیار کی، اس میں شامل نوجوان خواتین میں شامل تھیں کیرولائنا لینسنگ، ایزابیلی ڈورلینز، لیڈی آرمینٹا اسپینسر-چرچل، جلیان چان، یولالیا ڈے اورلینز-بوربون، المودینا ڈائلی ڈے اورلینز، روبی کیمپر، ایلس وانگ، یو جینیا آف ہوہنزلرن، برون وین وینس، ایلیزا لنڈروت اور دیگر شامل تھے۔
ہر ڈیبوٹنٹ نے کسی ایک کوٹور ہاؤس کے ساتھ مل کر اپنی مرضی کا گاؤن تیار کیا، جس میں ایک سخت اصول لاگو ہوتا ہے: گاؤن کا رنگ سیاہ یا سفید نہیں ہونا چاہیے۔
ہر سال کی طرح اوفیلی رینوآرڈ نے اس بار بھی بین الاقوامی ڈیبوٹنٹس کا متنوع انتخاب کیا، جس میں فیشن سینس، انفرادیت اور علمی قابلیت کو بنیاد بنایا گیا۔






