غیر ملکی خبررساں ادارے گلف نیوز کے مطابق یہ چار منزلہ محل 1985 میں مرحوم شیخ عبدالعزیز بن حمید القاسمی نے تعمیر کروایا تھا۔ 20 ہزار مربع میٹر پر محیط یہ محل 35 کمروں پر مشتمل ہے، جس کی تعمیر میں اسلامی، مراکشی، فارسی اور بھارتی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج شامل ہے۔
فرانس اور بیلجیم سے منگوائے گئے شاندار فانوس، تھاسوس ماربل کے فرش اور چھت پر نصب شیشے کے اہرام نما گنبد اس محل کی شان کو دوبالا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ تعمیر کے بعد یہ محل کبھی بھی آباد نہ ہو سکا۔ خاندان کی جانب سے محل میں موجود انسانی و حیوانی مجسموں پر اعتراض کے باعث شیخ نے یہاں رہائش اختیار نہیں کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ محل سے متعلق جنات، پراسرار روشنیوں اور بچوں کے چہروں کی جھلکیاں جیسی کہانیاں پھیل گئیں اور یوں یہ محل ایک خوف اور تجسس کی علامت بن گیا۔
موجودہ مالک طارق احمد الشرحن نے گلف نیوز سے خصوصی گفتگو میں تصدیق کی کہ یہ محل فروخت کے لیے پیش ہے، مگر ایک شرط کے ساتھ کہ راس الخیمہ کے پراپرٹی قوانین کے مطابق یہ محل صرف کسی اماراتی کے نام پر ہی رجسٹر ہو سکتا ہے۔ میری نیت سرمایہ کاری کی ہے، مگر میں چاہتا ہوں کہ یہ محل کسی ایسے مالک کے پاس جائے جو اس کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کی قدر کرے۔
محل کی تعمیر پر اُس وقت کے اندازے کے مطابق 500 ملین درہم سے زائد لاگت آئی۔ چھتوں پر بنے بارہ برجوں کے فن پارے، روشنی کو اندر لانے والا شیشے کا اہرام، اور فنِ تعمیر کی باریکی اس عمارت کو شاہکار بناتی ہے۔
مزید پڑھیں: والدین نے اپنی ہی بیٹی کو 27 سال تک کمرے میں قید کیوں رکھا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک وقت میں سابق وزیرِاعظم پاکستان بینظیر بھٹو نے بھی اس محل میں دلچسپی ظاہر کی تھی، مگر شیخ نے فروخت سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں طارق احمد الشرحن نے اسے شیخ کے ورثاء سے خرید کر بحال کیا اور عوام کے لیے کھول دیا۔ اب یہ محل روزانہ صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک عوام کے لیے کھلا رہتا ہے۔
طارق الشرحن نے کہا ہے کہ لوگ اس کی کہانیوں سے متاثر ہو کر آتے ہیں، مگر اس کی اصل خوبصورتی اس کے فنِ تعمیر اور تاریخی ورثے میں چھپی ہے۔







