ڈیجیٹل دنیا کی ایک دلچسپ تیکنیکی غلطی سے جنم لینے والا یہ مقام اب بین الاقوامی سیاحت کا ایک انوکھا مرکز بن چکا ہے، جہاں کچھ نہ دیکھ کر بھی مسافر خود کو دنیا کے خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہے ہیں۔
مشہور سفری بلاگ ’دی ورلڈ ٹرپرز’ چلانے والے جوڑے، رسل اور گیل لی کے مطابق، اپریل کی ایک روشن اور شفاف صبح جب ان کے تفریحی بحری جہاز پر سوار مسافر مغربی افریقہ کے ساحل سے دور کھلے سمندر میں موجود تھے، تو اچانک ہر طرف جوش و خروش پھیل گیا۔ جہاز پر موجود تمام مسافر اپنے فون نکال کر جغرافیائی لوکیشن پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔
جیسے ہی اسکرین پر ہندسے کم ہوتے ہوئے صفر پر پہنچے، لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور سیلفیاں لینا شروع کر دیں۔ کپتان نے خاص طور پر جہاز کا رخ بدلا تھا اور اس نادیدہ مقام پر پہنچنے کی خوشی میں مسافروں کو ایک خاص اعزازی لقب ’ایمرالڈ شیل بیکس‘ سے بھی نوازا گیا۔یہ مسافر دنیا کے ایک ایسے عجیب و غریب مقام پر پہنچ چکےتھےجو دنیا کے کسی مروجہ نقشے پر موجود نہیں، اور اسے ”نل آئی لینڈ“ کہا جاتا ہے۔
وہ جزیرہ جس کا کوئی وجود نہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام پر پہنچنے کے بعد جب مسافروں نے کھڑکیوں سے باہر دیکھا، تو وہاں جزیرے نام کی کوئی چیز نہیں تھی؛ چاروں طرف صرف اور صرف نیلا سمندر تھا۔ دراصل، ”نل آئی لینڈ“ کوئی حقیقی زمین یا جزیرہ نہیں ہے، بلکہ یہ انٹرنیٹ کے دور کا سب سے بڑا جغرافیائی مذاق ہے، جو کمپیوٹر اور نقشہ سازی کی ایک تیکنیکی غلطی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔
جغرافیائی نظام کے ماہرین کے مطابق، یہ مقام وہاں بنتا ہے جہاں زمین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والا خطِ استوا اور وقت کا تعین کرنے والا خطِ نصف النہار ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں۔ تیکنیکی زبان میں اس کے نقاط صفر ڈگری طول بلد اور صفر ڈگری عرض بلد ہیں۔
یہ فرضی جزیرہ کیسے بنا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا یا کسی ایپ پر کسی جگہ کی لوکیشن کا اندراج غلط ہو جاتا ہے یا ڈیٹا غائب ہو جاتا ہے، تو کمپیوٹر کا نظام خودکار طریقے سے اسے ”نَل“ یعنی صفر تسلیم کر لیتا ہے۔ یہ تمام غلط اور نامکمل ڈیٹا سمندر کے اس مخصوص حصے پر جا کر جمع ہو جاتا ہے۔
جب اسمارٹ فونز یا ایپس کو کسی جگہ کی درست لوکیشن نہیں ملتی، تو وہ اس کا مقام اسی فرضی جزیرے پر دکھا دیتے ہیں۔ اس جگہ پر دنیا بھر کے غائب شدہ ڈیٹا، جیسے اسٹروا کی دوڑ کے راستے، ایئر بی این بی کے فرضی ہوٹل اور گمشدہ کرائم رپورٹس کا ڈیجیٹل ڈھیر لگا ہوا ہے۔
شروع میں یہ نقشہ بنانے والے ماہرین کے درمیان ایک اندرونی مذاق تھا۔ لیکن 2010 میں ایک سافٹ ویئر ڈویلپر نے تفریحاً اس جزیرے کی ایک فرضی ویب سائٹ بنا دی، جس میں اس کا اپنا جھنڈا، تاریخ اور زبان تک ایجاد کر ڈالی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ انٹرنیٹ پر بے حد مشہور ہو گیا۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فرضی جزیرہ صرف ایک دلچسپ مذاق نہیں، بلکہ ڈیجیٹل نقشوں کے نظام میں موجود خطرناک خامیوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کے پروفیسر لیونٹے جوہاس کے مطابق لوگ اب نقشوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ اگر کسی ایمرجنسی کے دوران کمپیوٹر سسٹم غلط لوکیشن کی وجہ سے فائر بریگیڈ یا ایمبولینس کو سمندر کے اس خالی مقام کی طرف بھیج دے، تو چند منٹ کی یہ غلطی بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس ترقی یافتہ دنیا میں، جہاں انسان ہر انوکھی چیز کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے، ”نل آئی لینڈ“ ڈیجیٹل دنیا کی ایک ایسی دلچسپ جگہ بن چکا ہے جہاں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ ہے۔






