تقریب میں ملکی و غیر ملکی معززین، سفارتی نمائندگان، ثقافتی اداروں کے سربراہان اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سکھ عہد کے حمام اور اتھ دارہ پویلین میں ربن کاٹنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے بعد معزز مہمانوں نے بحال شدہ تاریخی مقامات کا دورہ بھی کیا۔

صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہمیشہ مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا مشترکہ تمدنی مرکز رہا ہے، اور لوہ مندر، سکھ عہد کا حمام اور اتھ دارہ پویلین پنجاب کی کثیرالثقافتی شناخت کی روشن علامتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتی ورثے کا تحفظ ہماری تاریخ کے تسلسل کو محفوظ بناتا ہےاور یہ منصوبے بقائے باہمی، رواداری اور باہمی احترام کے عملی مظہر ہیں۔

رمیش سنگھ اروڑا نے امریکی سفیروں کے فنڈ برائے ثقافتی تحفظ (اے ایف سی پی) کی مالی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون پاکستان کے ثقافتی ورثے پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے آغا خان کلچرل سروس پاکستان اور والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کی پیشہ ورانہ مہارت اور حساس انداز میں کیے گئے تحفظاتی کام کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت اقلیتی اور بین المذاہب ورثے کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، اور اقلیتی مقدس مقامات کا تحفظ حکومتِ پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا نئی  برطانوی ایف بی آئی  پولیس سروس تشکیل دینے کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ سے نہ صرف بین المذاہب ہم آہنگی کو تقویت ملے گی بلکہ مقامی معیشت اور بین الاقوامی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔

آخر میں رمیش سنگھ اروڑا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پنجاب قومی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے تاریخی ورثے کے تحفظ اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے ایسے منصوبے آئندہ بھی جاری رکھے گی، تاکہ یہ مقامات ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے اتحاد اور ہم آہنگی کے پل بن سکیں۔