درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث لوگ طویل دورانیے تک اے سی استعمال کر رہے ہیں، جس سے مشینوں پر غیر ضروری دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ مسلسل کئی گھنٹوں تک بغیر وقفے کے چلنے سے کمپریسر زیادہ گرم ہو جاتا ہے، جو آگ لگنے کی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔

ایک اور اہم وجہ گیس لیکیج ہے۔ اے سی میں استعمال ہونے والی ریفریجرنٹ گیس کولنگ کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، لیکن اگر سسٹم میں کہیں سے گیس لیک ہو جائے تو مشین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور کمپریسر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جو بالآخر خطرناک حد تک گرمی پیدا کر کے آگ کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین نے وولٹیج میں اتار چڑھاؤ کو بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ بجلی کے غیر مستحکم نظام کے باعث اچانک وولٹیج بڑھنے یا کم ہونے سے اے سی کے برقی پرزے متاثر ہوتے ہیں، جس سے شارٹ سرکٹ یا اوور لوڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ناقص وائرنگ، غیر معیاری انسٹالیشن اور پرانے یا خراب پرزہ جات بھی ایسے حادثات کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے اے سی کی تنصیب بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اے سی کو مسلسل کئی گھنٹے چلانے کے بجائے ہر 2 سے 3 گھنٹے بعد کچھ دیر کے لیے بند کر دیں تاکہ مشین ٹھنڈی ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ سروسنگ اور معائنہ کروانا انتہائی ضروری ہے تاکہ گیس لیکیج، گرد و غبار یا دیگر خرابیوں کو بروقت دور کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں وولٹیج کا مسئلہ ہو تو وولٹیج اسٹیبلائزر کا استعمال کیا جائے تاکہ برقی آلات محفوظ رہیں۔ مزید یہ کہ اے سی کو علیحدہ برقی سرکٹ سے منسلک کرنا چاہیے تاکہ اوور لوڈنگ سے بچا جا سکے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اے سی کی تنصیب ہمیشہ مستند ٹیکنیشن سے کروائی جائے اور غیر معیاری یا سستی وائرنگ سے گریز کیا جائے۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر اے سی سے غیر معمولی آواز، بدبو یا زیادہ حرارت محسوس ہو تو فوری طور پر اسے بند کر کے ماہر ٹیکنیشن سے رجوع کریں۔

ماہرین کے مطابق ان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نہ صرف قیمتی جانوں اور املاک کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ شدید گرمی میں محفوظ اور مؤثر ٹھنڈک کا حصول بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔