اس تبدیلی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا ایران کی جامعات کو درجہ بندی سے خارج کیا گیا؟ کیا یہ کسی سیاسی فیصلے کا نتیجہ ہے؟ یا پھر اس کے پیچھے رینکنگ کے قواعد میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں؟

ان سوالات کا جواب جاننے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ٹائمز امپیکٹ رینکنگ ہے کیا، اسے کیوں متعارف کروایا گیا، یہ دیگر عالمی رینکنگز سے کس طرح مختلف ہے اور اس میں پاکستان کی جامعات کی کارکردگی کیا رہی۔

روایتی رینکنگز سے مختلف تصور

جب دنیا کی بہترین جامعات کی بات ہوتی ہے تو عموماً QS World University Rankings، Times Higher Education World University Rankings اور Shanghai Ranking (ARWU) کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ان رینکنگز میں تدریس، تحقیق، تحقیقی حوالہ جات (Citations)، بین الاقوامی ساکھ، عالمی تعاون اور صنعت سے روابط جیسے اشاریوں کی بنیاد پر جامعات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

لیکن ٹائمز امپیکٹ رینکنگ کا مقصد مختلف ہے۔ یہ رینکنگ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کوئی جامعہ اقوام متحدہ کے 17 پائیدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals - SDGs) کے حصول میں کتنا کردار ادا کر رہی ہے۔

سادہ الفاظ میں یہ کہ یہ صرف اچھے اساتذہ یا تحقیقی مقالات ہی نہیں بلکہ غربت کے خاتمے، معیاری تعلیم، صنفی مساوات، صحت، صاف پانی، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی شراکت داری جیسے شعبوں میں بھی یونیورسٹی کی عملی کارکردگی کو جانچا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے ممکن ہے کہ کوئی جامعہ روایتی عالمی رینکنگز میں بہت اوپر نہ ہو، لیکن امپیکٹ رینکنگ میں نمایاں مقام حاصل کر لے۔

یہ رینکنگ کیوں متعارف کرائی گئی؟

2015 میں اقوام متحدہ نے 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) متعارف کرائے، جن کا مقصد دنیا بھر میں غربت، عدم مساوات، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر سماجی مسائل سے نمٹنا ہے۔

تعلیم اور تحقیق کو ان اہداف کے حصول کا بنیادی ذریعہ سمجھا گیا، اسی لیے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن نے 2019 میں پہلی مرتبہ ایمپیکٹ رینکنگز جاری کیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دنیا کی جامعات معاشرے پر کس حد تک مثبت اثر ڈال رہی ہیں۔

یہ رینکنگ چند ہی برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی Sustainability-based یونیورسٹی درجہ بندی بن گئی۔

2026 میں کیا تبدیلیاں ہوئیں؟

2026 میں اس رینکنگ کا نام THE Sustainability Impact Ratings رکھا گیا اور شرکت کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں۔

نئے نظام کے تحت جامعات کے لیے THE Sustainability Network کی رکنیت اختیار کرنا اور اپنی معلومات براہِ راست Times Higher Education کو فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

اگرچہ بنیادی اسکورنگ کا طریقہ کار زیادہ تبدیل نہیں ہوا، لیکن شرکت کے قواعد پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور منظم ہو گئے۔

ایران کیوں شامل نہیں؟

یہی وہ سوال ہے جس نے اس سال سب سے زیادہ توجہ حاصل کی۔ 2025 میں ایران کی 34 جامعات اس درجہ بندی کا حصہ تھیں، لیکن 2026 میں ان میں سے ایک بھی یونیورسٹی فہرست میں موجود نہیں۔

خیال رہے کہ تاحال Times Higher Education نے یہ نہیں کہا کہ ایرانی جامعات کو جان بوجھ کر خارج کیا گیا۔ اس لیے دو امکانات سامنے آتے ہیں۔

پہلا یہ کہ نئی شرائط، خصوصاً Sustainability Network کی رکنیت یا مطلوبہ ڈیٹا کی براہِ راست فراہمی، ایرانی جامعات پوری نہ کر سکیں یا انہوں نے اس ایڈیشن میں شرکت ہی نہ کی۔

دوسرا یہ کہ انتظامی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر ان کی درخواستیں مکمل نہ ہو سکیں۔ تاہم فی الحال کوئی باضابطہ ثبوت موجود نہیں جس سے یہ کہا جا سکے کہ ایران کو کسی سیاسی فیصلے کے تحت فہرست سے نکالا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی جامعات اب بھی QS World University Rankings اور THE World University Rankings میں شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف Impact Ratings 2026 تک محدود ہے۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

جہاں ایران اس فہرست سے مکمل طور پر غائب رہا، وہیں پاکستان کی موجودگی نمایاں رہی۔ پاکستان کی 52 جامعات اس درجہ بندی میں شامل ہوئیں۔

ان میں یونیورسٹی آف لاہور نے عالمی سطح پر 71ویں پوزیشن حاصل کرکے پہلی پاکستانی جامعہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا جو اس رینکنگ میں ٹاپ 100 میں پہنچی۔

اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی لاہور، قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد، NUST، COMSATS یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب، سپیریئر یونیورسٹی اور یو ایم ٹی سمیت متعدد جامعات 101–200 کے عالمی بینڈ میں شامل رہیں۔

یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی جامعات پائیدار ترقی اور سماجی اثرات کے حوالے سے اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہیں، اگرچہ روایتی عالمی رینکنگز میں ان کی پوزیشن اب بھی بہتر ہونے کی گنجائش موجود ہے۔

کیا یہ رینکنگ واقعی اتنی اہم ہے؟

تعلیمی ماہرین کے مطابق اگر کسی طالب علم کو دنیا کی بہترین تحقیقی یا تدریسی جامعہ تلاش کرنی ہو تو وہ عموماً QS یا THE World University Rankings دیکھے گا۔

لیکن اگر مقصد یہ جاننا ہو کہ کون سی جامعہ ماحولیات، صحت، سماجی ترقی، صنفی مساوات اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف پر حقیقی کام کر رہی ہے، تو THE Sustainability Impact Ratings دنیا کی اہم ترین درجہ بندیوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسی لیے اس رینکنگ کے نتائج نہ صرف جامعات کی بین الاقوامی ساکھ بلکہ عالمی شراکت داری، تحقیقاتی منصوبوں اور بعض اوقات طلبہ کے داخلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔