طبی جریدے جرنل آف انفیکشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ دنیا کا پہلا موقع ہے کہ کسی ویکسین کے مرکزی اینٹی جن کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت نے ڈیزائن کیا ہو اور اسے انسانوں پر آزمایا گیا ہو۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین نہ صرف کووڈ-19 کی موجودہ اقسام بلکہ مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے ممکنہ خطرناک کورونا وائرسز کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وائرس وقت کے ساتھ اپنی ساخت تبدیل کرتے رہتے ہیں، جس کے باعث فلو اور کورونا جیسی بیماریوں کی ویکسینز کو بار بار اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔
نئی تحقیق کا مقصد ایسی ویکسین تیار کرنا ہے جو وائرس کی مختلف اقسام کے خلاف وسیع پیمانے پر تحفظ فراہم کر سکے۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جوناتھن ہینی نے کہا کہ سائنس دان عموماً وائرس کے پھیلنے کے بعد اس کے خلاف اقدامات کرتے ہیں، لیکن ان کی ٹیم مستقبل کی وباؤں کا پہلے سے مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
تحقیق کے دوران دنیا بھر سے جمع کیے گئے مختلف کورونا وائرسز کے جینیاتی ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے نظام میں شامل کیا گیا۔
اے آئی نے ان معلومات کا تجزیہ کر کے ایک ایسا سپر اینٹی جن تیار کیا جو انسانی مدافعتی نظام کو وائرس کی مختلف شکلوں کو پہچاننے اور ان کے خلاف ردعمل دینے کی تربیت فراہم کرتا ہے۔
Could a "universal vaccine" protect us from future virus outbreaks? 🦠
— Cambridge University (@Cambridge_Uni) June 5, 2026
A Cambridge team has developed an entirely new way of making vaccines. Using data from virus surveillance programmes around the world, they used AI to design a ‘super antigen’.
This can create a single… pic.twitter.com/92nFWZ9x7P
ابتدائی مرحلے میں ویکسین کا تجربہ 39 افراد پر کیا گیا تاکہ اس کی حفاظت کا جائزہ لیا جا سکے۔ محققین کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوا کہ ویکسین محفوظ ہے اور اس کے کوئی سنگین مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔
اب تحقیق کے اگلے مرحلے میں 200 افراد پر مزید ٹرائلز کیے جائیں گے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ویکسین مدافعتی نظام کو کس حد تک مؤثر انداز میں متحرک کرتی ہے۔
اگرچہ ابتدائی نتائج میں مدافعتی ردعمل کو معتدل قرار دیا گیا ہے، تاہم ماہرین اس ٹیکنالوجی کو مستقبل کی ویکسین سازی میں ایک بڑی پیش رفت تصور کر رہے ہیں۔
آکسفورڈ ویکسین گروپ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ویکسین ریسرچ میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی مدد سے سائنس دان پہلے ہی اندازہ لگا سکیں گے کہ انسانی جسم کسی ویکسین پر کس طرح ردعمل ظاہر کرے گا۔
کیمبرج یونیورسٹی کی ٹیم کے مطابق یہ تحقیق صرف کورونا وائرس تک محدود نہیں۔ محققین اس وقت جانوروں پر ایک یونیورسل فلو ویکسین کی آزمائش بھی کر رہے ہیں، جسے ہر سال اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس کے علاوہ ایچ5این1 برڈ فلو اور ایبولا جیسے خطرناک وائرسز کے خلاف بھی مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئی ویکسینز تیار کرنے پر کام جاری ہے۔
برطانوی سائنس منسٹر لارڈ ویلنس نے اس پیش رفت کو برطانوی سائنسی تحقیق کا اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے صحت کے شعبے میں نئی راہیں کھل رہی ہیں، جو مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔






