پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طلبا کی خودکشی کے حوالے سے کوئی سرکاری ڈیٹا بیس تو موجود نہیں ہے مگر تاہم مختلف طبی رپورٹس، اخباری معلومات اور فلاحی اداروں کے اعداد و شمار موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال خودکشی کرنے والے پاکستانیوں کی زیادہ تعداد طلبا کی ہے جن کی عمریں 15 سے 29 سال کے درمیان ہیں۔

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطاً 5 سے زائد میڈیکل طلبا خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھاتے ہیں

 جو کہ کسی بھی پیشہ ورانہ شعبے میں بلند شرح ہے۔

ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق، صرف دو سالوں (2019-2020) کے دوران اخبارات میں بچوں اور نوجوانوں (18 سال سے کم) کی خودکشی کے 289 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک بڑی تعداد اسکول اور کالج کے طلبا کی تھی۔

ایک اور تحقیق سے پتا چلا ہے کہ خودکشی کرنے والے سکول کے بچوں کی شرح تقریباً 42.6 فیصد، کالج کے طلبا کی شرح 23.5 فیصد اور یونیورسٹی کے طلبا کی شرح تقریباً 22.1 فیصد ہے۔

خودکشی کی وجوہات میں سب بڑی وجہ امتحانات میں کم نمبر کا آنا یا گھروالوں یا معاشرے کی طرف سے دباؤ ہے، دوسری وجہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ، ساتھی طلبا کی طرف سے ہراساں کیا جانا ہے، انٹر نیٹ کے دور میں سماجی تنہائی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

ماہرِ نفسیات فتیحہ اشرف کے مطابق جب ڈپریشن یا خودکشی کے خیالات رکھنے والے طلباء اور افراد کا گہرائی سے نفسیاتی جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اکثر اوقات اس کی بنیادی وجہ کالج یونیورسٹی کا دباؤ، مالی مسائل، حاضری کا خوف یا اساتذہ کی سختی نہیں ہوتی، بلکہ کئی بار ان کے بچپن کے وہ صدمات ہوتے ہیں جو وقت پر سمجھے اور درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیے گئے۔

حالیہ دنوں میں بڑے تعلیمی اداروں میں خودکشی کے ہائی پروفائل واقعات نے اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کیا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور کی نجی یونیورسٹی میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش، مزید تفصیلات سامنے آگئیں

 ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خودکشی کی کوشش کرنے والے ہر ایک فرد کے پیچھے 10 سے 20 ایسے افراد ہوتے ہیں جو اس کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں یا کوشش کر چکے ہوتے ہیں۔

ماہر نفسیات عمر شاہد تگہ کا کہنا ہے کہ جس یونیورسٹیوں میں خودکشی کے بڑھتے واقعات کی بڑی وجہ بچوں کا لائف سٹائل ہے، لڑکے لڑکیاں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کرلیتے ہیں۔ منشیات کا استعمال عام ہوچکا ہے۔

نفسیات کی طالبہ عشرت سکندر کے مطابق والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا، دوسرے بچوں سے موازنہ اور معاشی وسائل ہیں۔ انہوں نے ایک اور بڑی وجہ خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال، غلط دوستوں کی صحبت اور اساتذہ کا دباؤ بھی ایک ہم وجہ ہے جو بچوں کو خودکشی تک لے جاتی ہے۔ 

فتیحہ اشرف کا کہنا ہے کہ بچپن میں مسلسل خوف، جذباتی نظراندازی، گھریلو تنازعات، تشدد یا شدید دباؤ انسان کے ذہن میں ایسے نفسیاتی زخم چھوڑ دیتا ہے جو بعد میں نوجوانی یا طالب علمی کے دور میں ڈپریشن، شدید مایوسی اور خودکشی کے خیالات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
 ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے والدین، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مجموعی طور پر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور انہیں بروقت کسی ماہر نفسیات یا کونسلر تک پہنچانے کے بجائے صرف نظم و ضبط، کارکردگی اور نمبرز پر توجہ دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اصل مسئلہ دب جاتا ہے اور جب طالب علم
تعلیمی یا سماجی دباؤ کا سامنا کرتا ہے تو وہ پہلے سے موجود اندرونی صدمات کے باعث ٹوٹ جاتا ہے۔
فتیحہ کے مطابق اگر بچپن اور طالب علمی کے ابتدائی مراحل میں ذہنی صحت کو اہمیت دی جائے، کونسلنگ کو معمول بنایا جائے اور والدین و ادارے بچوں کے جذباتی مسائل کو کمزوری کے بجائے ایک حقیقت سمجھیں تو ایسے افسوسناک واقعات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔