یہ اقدام یونیسف کے مینٹل ہیلتھ منتھ کے تناظر میں کیا گیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی پہلوؤں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔
اس ہفتے کے دوران ادارے کی قیادت نے بھی بھرپور شرکت کی۔ ڈائریکٹر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں ایسا نظام ہونا چاہیے جو طلبہ اور اساتذہ کی ذہنی و جذباتی نشوونما کو یقینی بنائے۔
اسی طرح ہیڈ کونسلر کے انٹرویو میں طلبہ کو جذباتی مضبوطی، ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور تعلیمی و ذاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔
تقریب کا ایک نمایاں پہلو آرٹ فار دی سول سرگرمی تھی، جس میں طلبہ کو اپنی اندرونی کیفیات کو فن کے ذریعے بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس سرگرمی نے شرکاء کو خود اظہار، سکون اور ذہنی وضاحت حاصل کرنے میں مدد دی۔
مزید پڑھیں: دنیا 150 سال پرانا کونسا کی بورڈ لے آؤٹ استعمال کر رہی ہے؟
ماہرین کے مطابق اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف ذہنی صحت کے حوالے سے موجود سماجی داغ کو کم کرتی ہیں بلکہ ایک صحت مند اور مثبت تعلیمی ماحول کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ ہفتہ اس بات کی یاد دہانی بھی تھا کہ ایک محفوظ اور معاون ماحول فراہم کرنا کسی بھی کامیاب اور متوازن معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔







