میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس فیصلے کو آخر کس بنیاد پر درست ثابت کیا جا رہا ہے، محض یہ کہا جا رہا ہے کہ ہمیں یقین ہے اور اسی یقین کی بنیاد پر پاکستان کو اس عالمی فورم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شمولیت کو غیر معمولی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کو عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور اس کی قیادت سے خصوصی واقفیت رکھتے ہیں، حتیٰ کہ فوجی قیادت کا ذکر بھی فخر سے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں بنگلہ دیش پر حملے کے بعد ایک فوجی حکمران کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا گیا تھا، جب کہ آج خود انڈیا میں بھی کوئی فیلڈ مارشل موجود نہیں۔ یورپ اور مغرب میں بھی ایسی مثالیں شاذونادر ہی ملتی ہیں، اس کے باوجود ان حوالوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ سوچ کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ خصوصی ہمدردی رکھتے ہیں، حقیقت سے زیادہ ایک خوش فہمی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پاکستان کے اپنے غریب عوام کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہو تو عالمی طاقتیں آخر کیوں پاکستان سے ہمدردی کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکا خطے میں پاکستان کو ایک مخصوص کردار دینا چاہتا ہے، جس میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا، فلسطینی قیادت کو کمزور کرنا اور غزہ کو حماس سے آزاد کرانے کے نام پر جنگی حکمت عملی کا حصہ بننا شامل ہے۔ اسرائیل جنگ بندی کی بات کر رہا ہے، مگر عملی طور پر غزہ میں بمباری مکمل طور پر رکی نہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی تاریخ کی بدترین بربریت میں شمار ہوتی ہے، جہاں پوری بستیاں مٹا دی گئیں، مائیں اور بچے قتل ہوئے اور جو بچے زندہ ہیں وہ بھی شدید اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورتحال میں پاکستان کا عالمی بورڈ آف پیس میں شامل ہونا کس حد تک درست ہے؟ محض وقتی عالمی اہمیت کے بدلے ایسے فورمز کا حصہ بننا ایک سنجیدہ قومی سوال ہے، جس پر کھلے دل سے غور ہونا چاہیے۔