اسپیشل گیمز میں 100 میٹر دوڑ، 100 میٹر وہیل چیئر ریس، بیڈمنٹن، ہائی جمپ، رسہ کشی سمیت دیگر مقابلے منعقد کیے گئے، جن میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے آئے کھلاڑیوں نے بھرپور شرکت کی۔ کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں بڑے اسٹیڈیم میں نارمل گیمز کی طرز پر کھیلنے کا موقع ملا، جو ان کے لیے اعزاز سے کم نہیں۔

100 میٹر دوڑ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ایک کھلاڑی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مقابلے خصوصی افراد کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ قومی سطح پر بھی نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ تاہم بعض کھلاڑیوں نے شکایت کی کہ تربیت، مستقل پریکٹس گراؤنڈز اور کھیلوں کے سازوسامان کی کمی آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے باعث ان کی صلاحیتیں پوری طرح نکھر نہیں پاتیں۔

وہیل چیئر ریس میں شریک چند پلیئرز نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر سلیکشن کا باقاعدہ نظام بنایا جائے تو خصوصی کھلاڑی بھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مواقع تو مل رہے ہیں، مگر سہولیات اور سپورٹ سسٹم کی کمی ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔

وہیل چیئر ریس میں شرکت کرنے والے ایک کھلاڑی نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود اس تقریب میں شریک ہوتیں تو نہ صرف کھلاڑیوں کا حوصلہ مزید بلند ہوتا بلکہ اس ایونٹ کی اہمیت بھی زیادہ اجاگر ہوتی۔ 

کوچ افتخار احمد نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر اسپیشل گیمز ایک مثبت آغاز ہے اور اسے مستقل پالیسی کا حصہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ایسے مقابلے مستقبل میں بھی منعقد کیے جائیں، انہیں دیگر شہروں تک پھیلایا جائے اور خصوصی کھلاڑیوں کے لیے تربیت، سہولیات اور سلیکشن کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔