جوابات میں کئ لوگوں نے انہیں صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک انقلابی آواز، مزاحمت کا علمبردار اور امید کی کرن کے طور پر بھی پیش کیا۔ کئی شرکاء نے فیض کو محبت، آزادی اور سماجی انصاف کی علامت قرار دیا۔

یہ بحث اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح فیض کی شاعری نئی نسلوں کے لیے آج بھی متاثر کن ہے۔ اس تقریب نے جنوبی ایشیا کے سب سے مشہور شاعروں میں سے ایک کی دیرپا ثقافتی اور فکری میراث کو اجاگر کیا۔

یہ ادبی میلہ کہاں منعقد ہوا اور لوگوں کی اس حوالے سے کیا رائے ہے؟، جانئے پاکستان میٹرز کے فہد حسین کی اس  ڈیجیٹل رپورٹ میں