آگ اس تیزی سے پھیلی کہ اندر موجود افراد کو نکلنے کا موقع تک نہ مل سکا، جب کہ دھوئیں نے فضا کو اس قدر آلودہ کر دیا کہ سیڑھیاں اور راستے مکمل طور پر اوجھل ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ مبینہ طور پر نچلی منزل پر واقع ایک دکان یا وائرنگ سے شروع ہوئی، تاہم اصل المیہ آگ لگنے کی وجہ نہیں بلکہ اس کا بے قابو ہو جانا تھا۔
گل پلازہ میں آتشزدگی سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات، واضح ایمرجنسی ایگزٹس اور فعال فائر الارم سسٹم کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ عمارت میں موجود کپڑے، پلاسٹک اور لکڑی کے سامان نے آگ کو مزید بھڑکایا۔
فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچیں، مگر اس وقت تک آگ عمارت کے بیشتر حصوں کو لپیٹ میں لے چکی تھی۔
شدید دھوئیں اور بلند درجہ حرارت کے باعث اندر داخل ہونا ممکن نہ رہا۔ آگ بجھانے کا عمل چند گھنٹوں کا نہیں بلکہ تقریباً 36 گھنٹے تک جاری رہا، اور اس دوران شہر کی مصروف شاہراہیں بند رہیں جبکہ شہری بے بسی سے شعلوں کو دیکھتے رہے۔
جب آگ پر قابو پایا گیا تو اصل تباہی سامنے آئی۔ رپورٹس کے مطابق اس سانحے میں اب تک کم از کم 73 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ درجنوں لاشیں اس قدر جھلس چکی تھیں کہ شناخت ممکن نہ رہی، جس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کا عمل شروع کیا گیا۔
اب تک 23 افراد کی شناخت ہو چکی ہے، جب کہ 20 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش اور شناخت کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھریلو تشدد بل پر صدر کے دستخط؛ بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا قابلِ سزا جرم قرار
جاں بحق ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے، جو خریداری کے بعد عمارت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس ایک موت نے اس سانحے کو محض اعداد و شمار سے نکال کر ایک گہرے انسانی المیے میں بدل دیا، جس پر ہر آنکھ نم اور ہر دل سوال کرتا دکھائی دیا۔
حادثے کے بعد فلاحی ادارے، رضاکار اور عام شہری فوری طور پر مدد کے لیے پہنچ گئے۔ متاثرین کے اہل خانہ کے لیے پانی، خوراک اور ابتدائی طبی امداد کا انتظام کیا گیا، مگر عوامی حلقوں میں سب سے زیادہ سوال حکومتی غیر موجودگی پر اٹھایا گیا۔
کراچی کے میئر میر مرتضیٰ وہاب واقعے کے اگلے روز جائے حادثہ پر پہنچے، بیان دیا اور افسوس کا اظہار کیا، مگر شہریوں کا کہنا ہے کہ جب عمارت جل رہی تھی، تب اختیارات رکھنے والے کہاں تھے؟
گل پلازہ سانحے نے ایک بار پھر کراچی کے فائر سیفٹی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کراچی جیسے میگا سٹی میں کم از کم 300 فائر اسٹیشنز ہونے چاہئیں، جب کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق شہر میں صرف 28 فائر اسٹیشنز فعال ہیں۔
مزید یہ کہ کئی فائر ٹینڈرز میں پانی اور جدید آلات کی کمی بھی سامنے آئی، جس نے آگ پر قابو پانے میں غیر معمولی تاخیر پیدا کی۔
یہ سانحہ ماضی کی تلخ یادیں بھی تازہ کر گیا، جب 2012 میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگنے سے 250 سے زائد مزدور جان سے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھی تحقیقات، وعدے اور اعلانات تو ہوئے، مگر نظام میں وہ تبدیلی نہ آ سکی جو آئندہ سانحات کو روک سکتی۔
گل پلازہ کی آگ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سوال ہے، ایک نظام پر فردِ جرم ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے شہر میں جانیں بچانے کا انتظام کیوں ناکام ہوا۔ جب تک غفلت کو حادثہ اور لاپرواہی کو تقدیر سمجھا جاتا رہے گا، کراچی جلتا رہے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ بھی فائلوں میں دفن ہو جائے گا، یا واقعی کوئی جواب دہی، کوئی تبدیلی سامنے آئے گی؟







