تین روزہ ایونٹ میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والی درجنوں آئی ٹی کمپنیوں نے شرکت کی، جہاں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سلوشنز اور مستقبل کے آئی ٹی ماڈلز کی نمائش کی گئی۔

ایکسپو میں مختلف آئی ٹی اسٹالز قائم کیے گئے تھے، جہاں سافٹ ویئر ہاؤسز، ٹیک اسٹارٹ اپس اور بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے آئی ٹی پروجیکٹس، پروڈکٹ ماڈلز، آٹومیشن سسٹمز اور اے آئی بیسڈ سلوشنز پیش کیے۔ شرکاء کو مقامی اور عالمی سطح پر دستیاب جدید ٹیکنالوجی کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔

ایونٹ میں شرکا اور ٹیک کمیونٹی کی جانب سے بھرپور فٹ فال دیکھنے میں آیا، جب کہ شرکاء نے ایکسپو کو معلوماتی، بروقت اور انتہائی مؤثر قرار دیا۔

 آئی ٹی کے طلبہ اور نوجوان پروفیشنلز نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سے براہِ راست ملاقاتیں کیں، جسے ماہرین نے مستقبل کی افرادی قوت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

ایکسپو میں شریک آئی ٹی ماہرین اور سی ای اوز کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئی ٹی سیکٹر تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی جانب بڑھ رہا ہے، جو اب صرف ایک رجحان نہیں بلکہ صنعت کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز نوجوانوں اور کمپنیوں دونوں کے لیے یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مارکیٹ کس سمت جا رہی ہے اور کن جدید اسکلز کی عالمی سطح پر مانگ ہے۔

ماہرین نے اس موقع پر آئی ٹی گریجویٹس کو مشورہ دیا کہ وہ پرانی اور محدود ٹیکنالوجیز کے بجائے اے آئی، ڈیٹا اینالیٹکس اور آٹومیشن جیسے جدید شعبوں پر توجہ دیں تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔ گلوبل اور پروڈکٹ بیسڈ کمپنیوں میں کام کرنے سے نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

ایکسپو میں پاکستان کے آئی ٹی ٹیلنٹ کو ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا گیا۔ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ٹیک انڈسٹری کے فروغ کے لیے وسیع مارکیٹ اور باصلاحیت انسانی وسائل موجود ہیں، ضرورت صرف اس ٹیلنٹ کو درست سمت میں استعمال کرنے کی ہے۔

ای کامرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ٹی ایکسپرٹ نے بتایا کہ پاکستان میں اب بھی بڑی تعداد میں کاروبار بغیر ویب سائٹ کے آن لائن فروخت کر رہے ہیں، جس سے صارفین کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ کسی بھی ڈیجیٹل بزنس کے لیے ویب سائٹ اعتماد سازی اور ترقی کی بنیاد ہے۔

آئی ٹی ماہرین نے حکومت، پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور وزارتِ آئی ٹی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات کے مثبت نتائج آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ITCN ایشیا جیسے ایونٹس نہ صرف نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے ٹیک ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 ٹیکنالوجی وہ شعبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور آنے والے برس پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے نہایت امید افزا ثابت ہوں گے۔