پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان نے متاثرہ علاقوں میں عوامی مؤقف جاننے کی کوشش کی، تاہم بیشتر افراد نے کیمرے پر بات کرنے سے گریز کیا، البتہ آف دی ریکارڈ گفتگو میں شہریوں نے شکایت کی کہ انہوں نے متعدد بار آن لائن شکایات درج کروائیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ لاہور کے علاقے شاہ جمال میں صفائی کے انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، کئی سو گھروں پر مشتمل اس علاقے میں صرف ایک ڈمپنگ پوائنٹ موجود ہے، جو آبادی کے لحاظ سے ناکافی قرار دیا جا رہا ہے علاقہ مکینوں کے مطابق یہی ڈمپنگ پوائنٹ پورے علاقے کے لیے مستقل کچرا کنڈی کا مرکز بن چکا ہے، اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسے کسی اور مقام پر منتقل کرنے کے لیے متعدد بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا، لیکن تاحال کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر صفائی ستھرائی کی جا رہی ہے، ان کے مطابق شہریوں کا تعاون نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے ان کا کہنا ہے کہ لوگ مقررہ اوقات میں کوڑا باہر نہیں رکھتے، جس کے باعث گلیوں اور چوراہوں پر کچرے کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔ تاہم شہری اس مؤقف سے متفق نہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر گھروں سے بروقت کوڑا اٹھایا جائے اور ڈمپنگ پوائنٹس کی تعداد اور مقامات کا درست تعین کیا جائے تو باہر کھلے مقامات پر کچرا جمع ہی نہ ہو، شہریوں کے مطابق مسئلہ تعاون سے زیادہ نظام کی کمزور منصوبہ بندی اور ناقص نگرانی کا ہے۔ ستھرا پنجاب جیسے منصوبوں کی کامیابی کا دارومدار صرف اعداد و شمار پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ آیا شہری عملی طور پر بہتری محسوس کر رہے ہیں یا نہیں، جب پائلٹ مرحلے میں ہی متعدد علاقوں میں صفائی کے بنیادی انتظامات تسلی بخش نہ ہوں تو یہ صورتحال منصوبے کی مجموعی کارکردگی پر سوالات کو جنم دیتی ہے فی الحال، سرکاری دعووں اور حقائق کے درمیان فرق واضح دکھائی دیتا ہے اور یہی فرق ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ منصوبے کا پہلا فیز دسمبر میں مکمل ہو چکا ہے پنجاب میں صفائی کے نظام کو یکسر تبدیل کرنے کے دعوے کیے ہیں ۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق فیز ون کے دوران 10 ملین ٹن سے زائد کچرا اکٹھا کیا گیا اور صوبے بھر میں جدید ویسٹ مینجمنٹ ڈھانچہ فعال ہو چکا ہے۔ 200 سے زائد شہروں میں ڈور ٹو ڈور کلیکشن، ڈیڑھ لاکھ سے زائد صفائی ورکرز کی ڈیجیٹل حاضری اور ہزاروں گاڑیوں کی ریئل ٹائم ٹریکنگ کے ذریعے صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ شہری شکایات کے فوری ازالے کے لیے 1139 ہیلپ لائن اور موبائل ایپ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ صفائی فلیٹ پر لاگت 100 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے، تاہم ویسٹ ٹو ویلیو منصوبوں کے ذریعے آئندہ برسوں میں 200 ارب روپے سے زائد کے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں گے!
مریم نواز کے پنجاب کو ’ستھرا‘ کرنے کے دعوے، حقیقت کیا ہے؟
فہد علی خان
9 جنوری، 2026صوبے میں جاری صفائی مہم ستھرا پنجاب کو حکومت پنجاب ایک پائلٹ پروجیکٹ قرار دے رہی ہے، جس کے تحت روزانہ ہزاروں ٹن کوڑا کرکٹ اٹھانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے، جہاں کئی کئی دن تک کوڑا نہ اٹھائے جانے اور ڈمپنگ پوائنٹس کی کمی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔






