اسی دوران عوامی سطح پر ایک بحث شروع ہو جاتی ہے کہ پاکستان اپنا کردار درست طریقے سے ادا نہیں کر رہا۔
اور یہی صورتحال ایران پر ہونے والے حملے کے بعد بھی دیکھنے میں آئی۔سوشل میڈیا پر سوالات اٹھنے لگے کہ پاکستان ایران کا ساتھ کیوں نہیں دے رہا؟
پاکستان اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟ہمارے ایٹمی ہتھیار آخر کس کام کے ہیں؟
ہمارے ہاں لوگ جذبات میں آ کر اپنی ٹیکس کی رقم سے بنی ہوئی اشیا جلا کر راکھ کر دیتے ہیں، لیکن کبھی آپ نے دیکھا کہ جب کبھی انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا ہو، تو کسی بھی مسلم ملک،افغانستان، ایران، سعودی عرب، دبئی، ترکی یا کسی اور مسلم ملک کی عوام نے انڈین سفارت خانے جلا دیے ہوں یا انڈیا کے خلاف بائیکاٹ چلایا ہو؟ نہیں نا
لیکن ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان پہلے ہی بیگانی جنگوں کا حصہ بن چکا ہے اور آج تک اس کے نتائج بھگت رہا ہے۔
امریکا کی افغان جنگ کی وجہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے۔ہم نے ہزاروں قیمتی جانیں گنوائیں اور اربوں ڈالرز کا معاشی نقصان برداشت کیا۔
اس وقت ایران سے لے کر سعودی عرب تک لاکھوں پاکستانی شہری موجود ہیں۔ جب کہ ایک اندازے کے مطابق خلیجی ممالک میں تقریباً 60 لاکھ پاکستانی کاروبار اور ملازمتوں سے وابستہ ہیں۔
اگر پاکستان کسی ایک فریق کی کھلی حمایت کرتا ہے تو اس کے مالی اور سفارتی اثرات بہت سنگین ہو ں گے۔
فرض کریں اگر پاکستان کھل کر صرف ایران کا ساتھ دینے لگے تو ان 60 لاکھ پاکستانیوں کا کیا ہوگا جو خلیجی ممالک میں روزگار کے لیے مقیم ہیں؟ انہی کی کمائی سے پاکستان میں کروڑوں گھروں کے چولہے جلتے ہیں۔
یا پھر اگر پاکستان خلیجی ممالک کا ساتھ دے کر ایران کو تنہا چھوڑ دے تو اس کے بھی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں چین کے علاوہ ہماری تقریباً تمام سرحدیں کشیدگی اور عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتی ہیں، کیونکہ ہم پہلے ہی انڈیا اور افغانستان کی سرحدوں پر تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
لیکن پھر بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان نے آج تک مسلم ممالک کی مدد نہیں کی، تو شاید اسے تاریخ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے عرب اسرائیل جنگوں میں کئی اسلامی ممالک کی عملی مدد کی۔پاکستانی فضائیہ کے پائلٹس نے مشرقِ وسطیٰ میں عرب ممالک کے ساتھ مل کر جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
اسی طرح افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور لاکھوں افغانیوں کو پناہ دی۔
ایران کی ہمیشہ ہر سطح پر سفارتی اور مالی مدد کی، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔ایران یا کسی بھی دوسرے مسلم ملک کے پاس اگر نیوکلئیر ہتھیار ا جائے تو سب سے زیادہ خوشی پاکستان کو ہوگی۔
لیکن ہر جنگ میں کود جانا یا جذباتی ہو کر فیصلے کرنا کسی بھی ریاست کے لیے کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔ریاستیں جذبات سے نہیں بلکہ مفادات، سفارت کاری اور طویل مدتی نتائج کو دیکھ کر فیصلے کرتی ہیں اور ہر ریاست سب سے پہلے اپنے مفاد کو ترجیح دیتی ہے پھر کسی دوسری ریاست کے لیے سوچتی ہے۔
تو پھر اگلی بار کوئی بھی جذباتی رائے دینے یا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ حقائق ضرور یاد رکھیے گا۔
آپ اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں اپنی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کریں۔






