محمد ارحم نے ’پاکستان میٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ وزٹ ویزا پر کویت میں موجود تھا، تو اچانک ایک رات سات سے آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ان دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارتیں لرز گئیں اور لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی بیس کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں مسلسل دھماکوں کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔ تقریباً 20 سے 25 دن انتظار کرنے اور سفارت خانے سے رابطے کے بعد، وطن واپسی کا منصوبہ بنایا گیا۔
فضائی آپریشنز میں دشواری کی وجہ سے انہیں بذریعہ سڑک سعودی عرب بارڈر پار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات 3:30 بجے روانہ ہوئے اور سرحد عبور کر کے دمام ایئرپورٹ پہنچے۔ اس چار گھنٹے کے سفر کے دوران انہوں نے اپنی آنکھوں سے میزائلوں کو فضا میں تباہ ہوتے دیکھا۔
ایئرپورٹ پر 10 گھنٹے کے طویل انتظار اور ایمرجنسی الرٹس کے باوجود، پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور آخر کار وہ جہاز میں سوار ہو کر بحفاظت اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔







