اسی صورتحال پر جماعت اسلامی نے "بدل دو نظام" مہم شروع کرتے ہوئے 7 دسمبر کو لاہور، فیصل آباد، ملتان سمیت بڑے شہروں میں ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ فوری بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، مقامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیے جائیں اور آئین کے آرٹیکل 140-A پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جماعت کے مطابق شہری مسائل کا اصل حل اسی وقت ممکن ہے جب میئرز اور چیئرمین اپنے شہروں کے بجٹ اور انتظامات پر مکمل اختیار رکھتے ہوں۔
شہروں کا نظام مفلوج، بلدیاتی اختیارات پر قبضہ، جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج
مادھو لعل
13 دسمبر، 2025پاکستان کے شہری پانی کی قلت، کچرے کے ڈھیر، خراب سڑکوں اور بجلی کے مسائل سے شدید پریشان ہیں، مگر مقامی نمائندے اختیارات نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں کر پاتے۔ ترقیاتی فنڈز ایم این اے اور ایم پی اے کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ بلدیاتی ادارے برسوں سے سیاسی تاخیر اور مالی پابندیوں کا شکار ہیں۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 نے بھی اختیارات نیچے منتقل کرنے کے بجائے بیوروکریسی کے ہاتھ مضبوط کیے، جس پر اپوزیشن اور ماہرین شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔






