مارچ کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں بچے بھی شریک۔ پلے کارڈز پر مختلف نعرے درج تھے۔


امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی کے لیے امریکا سے بات کرے، تمام یرغمالیوں کو بازیاب کروایا جائے، صمود فلوٹیلا نے جمود توڑدیا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ 1947 میں حماس موجود نہیں پھر بھی فلسطین پر ظلم و بر بریت ہو رہی تھی، دو سال سے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں ، ن لیگ نے کتنے احتجاج کیے ہیں ؟ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے کتنے احتجاج کیے، یہ سب امریکی سامراج کا حصہ ہیں۔


انہوں نے کہا ہے کہ جیل سے سارے ٹویٹ ہو سکتے ہیں، لیکن نیتن یاہو اور اسرائیل کے خلاف ٹویٹ نہیں ہو سکتا، حکمرانوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا ، عوام جلد انہیں دھتکارے گی، جو فلسطین اور حماس کے حق میں کھڑا ہے وہ ہمارے ماتھے کا جھومرہیں۔