لاہور میں تعینات ڈی جی ایران کلچر ڈاکٹر اصغر مسعودی نے پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے اور یہ فیصلہ ایران کے اپنے آئینی و سیاسی نظام کے تحت کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس حوالے سے سخت بیانات سامنے آئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کو مجتبیٰ خامنہ ای کسی صورت قبول نہیں ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قیادت کے انتخاب میں کسی بیرونی رائے کو اہمیت نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کسی ملک کے کہنے یا نہ کہنے پر نہیں کیا۔ یہ فیصلہ ایران کے اپنے نظام اور قیادت نے کیا ہے۔ حتیٰ کہ ٹرمپ کے اعتراضات کے باوجود بھی ایران نے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای کو ہی منتخب کیا۔

 ایران ایک ایسا ملک ہے جو اپنی خودمختاری، نظریات اور قومی مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتا۔  جس طرح شہید رہبر نے ایران کی قیادت کرتے ہوئے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کیا، اسی طرح نئی قیادت بھی ایران کے مفادات کا دفاع کرے گی۔

مذاکرات کے امکان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اصغر مسعودی نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی مذاکرات کی ٹیبل ل پر تھا،  اسی دوران ایران کے خلاف حملے کیے گئے اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا، ایسے حالات میں امریکہ اور اسرائیل پر اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اکثر اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتے۔

ڈاکٹر اصغر مسعودی کا کہنا تھا کہ ایران ایک مضبوط ریاست ہے اور وہ اپنے دشمنوں کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے اصولوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔