وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کا یہ دعویٰ مسلمہ حقائق کے منافی ہے اور عالمی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔

بیان کے مطابق افغانستان امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی بڑی مقدار پہلے ہی رکھتا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اس فوجی سازوسامان کی مالیت کا تخمینہ 7.2 ارب امریکی ڈالر لگایا گیا ہے، جب کہ کئی دہائیوں پر محیط تنازعات کے دوران جمع ہونے والے سوویت دور کے ہتھیاروں کے بڑے ذخائر بھی افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے ہتھیاروں کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ اصل اور زیادہ سنگین مسئلے سے ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ یہ معاملہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق اہم تشویش کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کو اب بھی پناہ، سہولت کاری اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے۔ یہ گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان کو بے بنیاد الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری یقینی بنائیں اور افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔