وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ (ای پی ونگ) کی جانب سے جاری پانچ صفحات پر مشتمل گائیڈ لائنز کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی یا بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے تمام صحافیوں، فری لانسرز، اسٹرنگرز، فکسرز، اسپانسرز، میڈیا پروفیشنلز، میڈیا مالکان اور دیگر متعلقہ افراد کے لیے ای پی ونگ میں رجسٹریشن لازمی ہوگی۔

دستاویز کے مطابق یہ گائیڈ لائنز پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا اور ویب پر مبنی تمام غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گی۔

گائیڈ لائنز کے تحت پاکستان میں مقیم ایسے تمام صحافی، جو کسی بھی حیثیت میں غیر ملکی میڈیا کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، ای پی ونگ کے آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے۔ جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کو درخواست ای پی ونگ پورٹل کے ساتھ قریبی پاکستانی سفارت خانے یا ہائی کمیشن کے ذریعے بھی جمع کرانا ہوگی۔

حکومت نے غیر ملکی میڈیا کے لیے سہولت کاری کرنے والی کمپنیوں، پروڈکشن ہاؤسز اور دیگر اداروں کے لیے بھی رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے۔ تاہم دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف رجسٹریشن کسی شخص کو حکومت پاکستان کی سرکاری حیثیت یا نمائندگی فراہم نہیں کرے گی۔

گائیڈ لائنز کے مطابق پریس ایکریڈیٹیشن حاصل کرنے کے خواہش مند صحافیوں کو رجسٹریشن کے بعد مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ آن لائن درخواست دینا ہوگی۔ مستقل ایکریڈیٹیشن ایک سال کے لیے جاری کی جائے گی، جبکہ غیر ملکی دورے پر آنے والے صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے عارضی ایکریڈیٹیشن دی جا سکے گی۔

وزارت اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ ای پی ونگ کا ایکریڈیٹیشن کارڈ حکومت پاکستان کی نمائندگی یا ویزا کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب تک وزارت اطلاعات سفارتی ذرائع سے اس کی سفارش نہ کرے۔

دستاویز کے مطابق رجسٹریشن کارڈ سات ورکنگ ڈیز جبکہ ایکریڈیٹیشن کارڈ چار سے چھ ہفتوں میں جاری کیا جا سکے گا۔ ای پی ونگ ضرورت پڑنے پر درخواست گزار سے اضافی معلومات یا دستاویزات بھی طلب کر سکے گا۔

گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جعلی دستاویزات جمع کرائے، ایکریڈیٹیشن کارڈ کا غلط استعمال کرے، اپنی تنظیم تبدیل کرنے یا اس سے علیحدگی کی بروقت اطلاع نہ دے، یا پاکستان کی خودمختاری، سلامتی، نظریے یا امن عامہ کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے تو اس کی رجسٹریشن یا ایکریڈیٹیشن معطل یا منسوخ کی جا سکتی ہے۔

نئی ہدایات کے تحت پہلے سے رجسٹرڈ یا ایکریڈیٹڈ غیر ملکی میڈیا سے وابستہ افراد کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے کسی بھی شہر میں سرکاری نوعیت کی رپورٹنگ، ڈاکومنٹری، فلم یا سوشل میڈیا مواد تیار کرنے سے قبل ای پی ونگ سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرنا ہوگا۔

البتہ ایبٹ آباد اور مری کے نجی یا تفریحی دوروں کے لیے درخواست موصول ہونے کے بعد تین ورکنگ ڈیز کے اندر این او سی جاری کیا جا سکے گا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق مستقبل میں صرف ای پی ونگ کے جاری کردہ کیو آر کوڈ سے مزین پی وی سی ایکریڈیٹیشن کارڈز ہی قابل قبول ہوں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نئی گائیڈ لائنز کا مقصد پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا اور اس سے وابستہ افراد کے لیے رجسٹریشن، نگرانی اور سہولت کاری کے نظام کو منظم اور شفاف بنانا ہے۔