سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صحافی اعجاز چیمہ نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد پمز ہسپتال کی حدود میں فائر بریگیڈ کے تعاون سے آگ بجھانے کی ایک مشق کا انعقاد کیا گیا، تاہم ریہرسل کے دوران استعمال کیے گئے فائر فائٹنگ سلنڈرز مؤثر ثابت نہ ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے نے سلنڈرز سے متعدد بار اسپرے کیا اور انہیں مکمل طور پر خالی کردیا، تاہم گتے میں لگائی گئی معمولی آگ بھی بجھانے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

صحافی اعجاز چیمہ نے دعویٰ کیا کہ سلنڈرز میں موجود فائر فائٹنگ گیس مبینہ طور پر ناقص اور غیر معیاری تھی، جس کے باعث آگ بجھانے کی مشق بھی مؤثر ثابت نہ ہوسکی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہسپتال کے کسی شعبے میں دوبارہ آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تو ناقص یا غیر مؤثر فائر فائٹنگ آلات انسانی جانیں بچانے کے بجائے مزید نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

واقعے پر صحافتی حلقوں اور عوام کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جب کہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پمز انتظامیہ، فائر بریگیڈ اور فائر فائٹنگ آلات فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کے کردار کی تحقیقات کی جائیں۔

عوامی حلقوں نے وزیراعظم سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مبینہ غفلت، ناقص آلات کی فراہمی اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی میں ملوث عناصر کے خلاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔