کمپنی کی متوقع ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کو وال اسٹریٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی لسٹنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسپیس ایکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایس پی سی ایکس ٹکر سمبل کے تحت اسٹاک مارکیٹ میں لسٹ ہوگی، جس کے بعد پہلی مرتبہ کمپنی کی مالی صورتحال، قیادت اور مستقبل کے منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے آئیں گی۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے اپنی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر مقرر کی ہے۔ اس تخمینے کے مطابق ایلون مسک کے کمپنی میں اکثریتی حصص کی مالیت 600 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہے، جب کہ ان کی دیگر کمپنیوں اور اثاثوں کو شامل کیا جائے تو ان کی مجموعی دولت 1 ٹریلین ڈالر کی تاریخی حد عبور کرسکتی ہے۔
ایلون مسک گزشتہ برس ہی 500 ارب ڈالر سے زائد دولت رکھنے والے دنیا کے پہلے شخص بنے تھے۔ وہ ٹیسلا کے بھی چیف ایگزیکٹو ہیں اور اسپیس ایکس میں 85 فیصد سے زائد ووٹنگ پاور رکھتے ہیں۔
آئی پی او دستاویزات کے مطابق ایلون مسک اسپیس ایکس کے چیئرمین ہیں جبکہ کمپنی کی صدر اور چیف آپریٹنگ آفیسر گیوین شاٹ ویل بھی بورڈ میں شامل ہیں۔
اسپیس ایکس نے انکشاف کیا ہے کہ اگر کمپنی کی مالیت 7.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچتی ہے اور مریخ پر کم از کم 10 لاکھ افراد پر مشتمل مستقل انسانی کالونی قائم ہوجاتی ہے تو ایلون مسک کو کروڑوں اضافی شیئرز دیے جائیں گے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف راکٹ بنانا نہیں بلکہ انسانی زندگی کو کئی سیاروں تک پھیلانا ہے۔ اسپیس ایکس مستقبل میں چاند پر بیس اور دیگر سیاروں پر شہر بسانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
اسٹارلنک کے ذریعے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کے بعد اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔
کمپنی کے مطابق مستقبل میں اے آئی، خلائی ڈیٹا سینٹرز، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مجموعی مارکیٹ ویلیو 28.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس نے گزشتہ سال 18.6 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی، تاہم کمپنی کو 4.9 ارب ڈالر خسارے کا سامنا بھی رہا۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی نے 4.7 ارب ڈالر کی فروخت کی، لیکن 4.3 ارب ڈالر کا مزید خسارہ رپورٹ کیا گیا۔
کمپنی کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 102 ارب ڈالر جب کہ قرضے 60.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اخراجات میں سب سے زیادہ سرمایہ مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر، اسٹارلنک سیٹلائٹس اور خلائی منصوبوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
2002 میں ایک راکٹ کمپنی کے طور پر قائم ہونے والی اسپیس ایکس آج خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی بین السیاراتی زندگی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی دوڑ میں دنیا کی نمایاں ترین کمپنیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔







