گوگل، ایمیزون، مائیکروسافٹ اور دیگر بڑی کمپنیاں ایسے وسیع نیٹ ورک قائم کر رہی ہیں جو اے آئی ماڈلز اور کلاؤڈ سروسز کو 24 گھنٹے فعال رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق 2024 میں دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز نے تقریباً 415 ٹیرا واٹ آور بجلی استعمال کی، جو عالمی بجلی کا تقریباً 1.5 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور 2030 تک یہ تقریباً 945 ٹیرا واٹ آور تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ سہولیات خاص طور پر “ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز” کہلاتی ہیں، جو ہزاروں سرورز پر مشتمل ہوتے ہیں اور AI و کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک ہائپر اسکیل سینٹر کو 100 سے 300 میگا واٹ تک مسلسل بجلی درکار ہوتی ہے، جو سینکڑوں ہزار گھروں کی توانائی کے برابر ہے۔

ان مراکز میں نصب طاقتور چپس مسلسل کام کرتے ہوئے بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں، جسے کنٹرول کرنے کے لیے جدید کولنگ سسٹمز استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان سسٹمز میں بڑی مقدار میں پانی بھی خرچ ہوتا ہے۔

ایک برطانوی حکومتی رپورٹ کے مطابق صرف 100 میگا واٹ کا ایک ڈیٹا سینٹر سالانہ تقریباً 2.5 ارب لیٹر پانی استعمال کر سکتا ہے، جو تقریباً 80 ہزار افراد کی سالانہ ضرورت کے برابر ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی اور دیگر اداروں کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز اپنے اطراف کے علاقوں میں درجہ حرارت بڑھا دیتے ہیں۔ اوسطاً زمین کی سطح کا درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ بعض مقامات پر یہ اضافہ 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔

یہ رجحان “ڈیٹا ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” کہلاتا ہے، جو شہری علاقوں میں پائے جانے والے “اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” سے مشابہ ہے۔ تحقیق کے مطابق اس کا اثر ڈیٹا سینٹر سے 10 کلومیٹر دور تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔

ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا اور 11 ہزار سے زائد ڈیٹا سینٹرز کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ 6,733 ایسے مراکز جو کم آبادی والے علاقوں میں ہیں، ان کے قیام کے بعد درجہ حرارت میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔

دنیا بھر میں اس وقت 11,600 سے زائد ڈیٹا سینٹرز فعال ہیں۔ سب سے زیادہ مراکز امریکہ میں ہیں جن کی تعداد 4,300 سے زائد ہے۔ یورپ میں برطانیہ، جرمنی اور فرانس نمایاں ہیں، جبکہ ایشیا میں چین اور بھارت اس دوڑ میں آگے ہیں۔

ساؤتھ ایسٹ ایشیا تیزی سے ترقی کرتا ہوا خطہ ہے جہاں کلاؤڈ اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔

تحقیقات کے مطابق 10 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے 340 ملین سے زائد افراد ان حرارتی اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس سے مقامی سطح پر صحت، توانائی کی طلب اور رہائش کے معیار پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مراکز ڈیجیٹل ترقی کے لیے ناگزیر ہیں، لیکن ان کے ماحولیاتی اثرات کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ضروری ہے۔

گولڈمین سیکس کے مطابق صرف چار بڑی ٹیک کمپنیاں — مائیکروسافٹ، ایمیزون، گوگل (الفابیٹ) اور میٹا — 2025 سے 2030 کے دوران مجموعی طور پر 5.3 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی توقع رکھتی ہیں، جس کا بڑا حصہ اے آئی انفراسٹرکچر پر خرچ ہوگا۔

AI ٹیکنالوجی کی ترقی جہاں عالمی معیشت اور ڈیجیٹل دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہے، وہیں اس کے پیچھے چھپے توانائی، پانی اور ماحولیاتی چیلنجز بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی سب سے بڑی ضرورت “اسمارٹ مگر پائیدار اے آئی  انفراسٹرکچر” کی تعمیر ہے۔