حالیہ تحقیقات کے مطابق، یہ جال تقریباً 100 مربع میٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور اس میں دو مختلف اقسام کی لاکھوں مکڑیاں آباد ہیں، جن میں 69 ہزار "بارن فنل ویور" اور 42 ہزار "شیٹ ویور اسپائڈر" شامل ہیں۔

عام طور پر سوشل مکڑیاں اپنی ہی نسل کے ساتھ بڑے جالے بناتی ہیں جن میں ہزاروں مکڑیاں رہتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب مختلف اقسام کی مکڑیوں نے ایک ہی جگہ پر اکٹھا ہو کر مشترکہ جال بنایا ہے۔

یہ غیرمعمولی جال سب سے پہلے 2022 میں مہم جوؤں نے زیرِ زمین وائلڈ لائف سروے کے دوران دریافت کیا تھا، جنہوں نے اسے "مکڑیوں کی میگا سٹی" قرار دیا۔

 ان کی اطلاع پر ماہرین نے بعد میں غار کے متعدد دورے کیے اور اس عجیب و نایاب مظہر کا تفصیلی مطالعہ کیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ غار کا داخلی حصہ یونان میں واقع ہے، جب کہ گہرائی میں موجود خانے البانیہ کی حدود میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ قدرتی عجوبہ دو ملکوں کے درمیان ایک مشترکہ دریافت بن گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف مکڑیوں کے سماجی رویوں پر نئی تحقیق کے دروازے کھلیں گے بلکہ یہ فطرت میں حیاتیاتی تعاون کے ایک انوکھے مظہر کی بھی عکاسی کرتا ہے۔