خاتون کی درخواست پر درج مقدمے کی سماعت کے دوران فیس بک کے بانی مارک زکر برگ عدالت میں پیش ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں ناقابلِ تردید شواہد بھی دکھائے گئے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے جان بوجھ کر ایسے ڈیزائن تیار کیے، جن کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کے ذہنوں پر حاوی رہتے ہیں اور انہیں مسلسل اسکرین سے جوڑے رکھتے ہیں۔
عدالت میں پیشی کے دوران مارک زکربرگ نے مؤقف اختیار کیا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور کمپنی کی پالیسی اس حوالے سے واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی انقلاب کی رفتار خطرناک حد تک تیز، وائٹ کالر نوکریاں دباؤ میں آ جائیں گی: بل گیٹس
خیال رہے کہ مارک زکربرگ اس سے قبل بھی ایسے الزامات پر امریکی کانگریس میں پیش ہو چکے ہیں۔ یورپ میں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جب کہ اسپین اور فرانس میں سوشل میڈیا کے حوالے سے سخت قوانین اپنائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، بچوں کے تحفظ اور ڈیجیٹل ریگولیشن سے متعلق بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔







