ابتدائی طور پر یہ ایپ اٹلی اور اسپین میں iOS اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بغیر ایڈیٹنگ کے  ریئل لائف  کے لمحات کو فوری طور پر شیئر کرنا ہے۔

انسٹنٹ میں صارفین صرف ایپ کے اندر موجود کیمرہ کے ذریعے تصاویر یا ویڈیوز بنا سکتے ہیں، جب کہ کیمرہ رول سے اپلوڈ کی سہولت نہیں دی گئی۔

مواد 24 گھنٹوں تک دستیاب رہتا ہے لیکن ایک بار دیکھنے کے بعد غائب ہو جاتا ہے، جو اسے سنیپ چیٹ، بی ریئل اور لاکٹ جیسے پلیٹ فارمز کے قریب لاتا ہے۔

ایپ میں ایڈیٹنگ ٹولز بھی محدود رکھے گئے ہیں، جیسے صرف سادہ ٹیکسٹ اوورلے، تاکہ فوکس  پرفیکشن  کے بجائے  حقیقت  پر رہے۔ صارفین اپنی پوسٹس کو یا تو باہمی فالورز یا کلوز فرینڈز لسٹ کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔

میٹا کے ترجمان کے مطابق کمپنی مختلف ورژنز آزما رہی ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ صارفین کو کون سا انداز زیادہ پسند آتا ہے اور مقصد کم دباؤ کے ساتھ دوستوں سے جڑنے کے نئے طریقے پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب میٹا انسٹاگرام پر  انسٹاگرام پلس  نامی ایک پریمیم سبسکرپشن ماڈل بھی آزما رہی ہے، جس میں اسٹوریز کو خفیہ طور پر دیکھنے، ری ویوز کی معلومات اور مزید کسٹم آڈینس لسٹس جیسے فیچرز شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ نیا تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میٹا مختصر اور غیر رسمی ویژول کمیونیکیشن کو مستقبل کی سوشل میڈیا ٹرینڈ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔