غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسی تناظر میں نویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اوپن اے آئی میں مزید 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر یہ آخری بڑی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے جب تک اوپن اے آئی عوامی سطح پر شیئرز فروخت کرنے یعنی پبلک ہونے کی طرف نہیں جاتی۔

ہوانگ نے یہ بھی واضح کیا کہ پہلے زیرِ غور 100 ارب ڈالر کی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری اب منصوبے کا حصہ نہیں رہی۔

ماہرین کے مطابق 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خود میں ایک بڑا خطرہ ہے۔ بوسٹن کالج کے ایسوسی ایٹ ڈین بوسٹن کالج کے ماہر الیگزینڈر ٹومک کا کہنا ہے کہ یہ رقم اینویڈیا کی سالانہ آمدنی کے تقریباً آٹھویں حصے کے برابر ہے اور کمپنی کی سہ ماہی آمدنی کے نصف کے قریب بنتی ہے، جو ایک بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔

دوسری جانب اینویڈیا کی مالی کارکردگی مضبوط رہی ہے۔ کمپنی کی حالیہ سہ ماہی آمدنی 68 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ ہے، جب کہ کمپنی نے پہلی سہ ماہی میں 78 ارب ڈالر کی فروخت کی توقع ظاہر کی ہے۔

اس کے باوجود سرمایہ کاروں کے خدشات کے باعث کمپنی کے شیئرز ایک ہفتے میں 9 فیصد سے زائد گر گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی حقیقی قدر کا تعین ابھی مشکل ہے۔ ٹومک کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اے آئی کمپنیوں کی اصل آمدنی کہاں سے آئے گی اور صارفین اس ٹیکنالوجی کے لیے کس حد تک ادائیگی کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کو اپنی کمپیوٹنگ طاقت برقرار رکھنے کے لیے آئندہ برسوں میں بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کمپنی کی کمپیوٹنگ ضروریات 2030 تک تقریباً 600 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ صرف ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار جگہ کا خرچ ہی 620 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔

اسی طرح مائیکروسافٹ کو بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کے اثرات کا سامنا ہے۔ کمپنی کی کلاؤڈ سروس مائیکروسافٹ اذور کی ترقی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی، جب کہ سرمایہ کاری کے اخراجات میں 66 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے بعد مائیکروسافٹ کے شیئرز میں بھی تقریباً 11 فیصد کمی دیکھی گئی۔

کچھ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کو اپنی موجودہ قدر برقرار رکھنے کے لیے 2030 تک سالانہ 200 ارب ڈالر کی آمدنی پیدا کرنا ہوگی، جو اگلے پانچ برسوں میں تقریباً پندرہ گنا اضافہ بنتا ہے، جب کہ کمپنی کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

اوپن اے آئی کو قانونی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ مثال کے طور پر نیویارک میں ایک مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کی جانب سے تیار کردہ مواد مصنفین کے کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: بینائی سے محروم افراد کے لیے امید کی نئی کرن، دماغی چپ سے نظر بحال کرنے کی ٹیکنالوجی پر 230 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

اسی طرح ایک مقدمہ کولوراڈو میں بھی دائر کیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے ایک شخص کی خودکشی کے معاملے میں منفی کردار ادا کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اوپن اے آئی اس وقت تقریباً 100 ارب ڈالر کے قرض کے بوجھ تلے بھی دبی ہوئی ہے اور کمپنی کو ڈیٹا سینٹرز اور انفراسٹرکچر کے لیے مزید بھاری سرمایہ درکار ہوگا۔

بعض ماہرین کے خیال میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حد سے زیادہ جوش و خروش مستقبل میں ایک معاشی بلبلہ ثابت ہو سکتا ہے، جیسا کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ڈاٹ کام کمپنیوں کے ساتھ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ اگر اوپن اے آئی کو نقصان بھی ہوتا ہے تو اینویڈیا اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیوں کے لیے یہ کوئی وجودی خطرہ نہیں ہوگا کیونکہ ان کے پاس دیگر کئی مضبوط کاروباری ذرائع موجود ہیں۔