حکام کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق، وفاقی دارالحکومت میں اہم شہری اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے ایک جدید ترین ’اسمارٹ فیوژن سینٹر‘ قائم کیا جائے گا۔

اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی سسٹمز اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ڈیوائسز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا جائے گا، تاکہ مختلف محکموں کے درمیان ریئل ٹائم مانیٹرنگ (بروقت نگرانی)، ڈیٹا شیئرنگ اور تیزی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت کو ممکن بنایا جا سکے۔

 اس منصوبے کے تحت سیف سٹی اسلام آباد، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، اور انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی  اسلام آباد جیسے متعدد اداروں کے ڈیٹا کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا تاکہ صورتحال سے آگاہی اور شہری انتظام  کو بہتر بنایا جا سکے۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے تحت ایک جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی تیار کیا جائے گا، جس سے حکام کو ایک ہی ڈیجیٹل انٹرفیس کے ذریعے پورے شہر کی نگرانی کرنے کی سہولت ملے گی۔ ہنگامی حالات میں، یہ سسٹم مرکزی کنٹرول کے ذریعے متعدد محکموں کی طرف سے مربوط ردعمل کو ممکن بنائے گا۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے 2026-27 کے بجٹ سے قبل ٹیکس اصلاحات کی وسیع مہم کا آغاز کیا

اسمارٹ اسلام آباد پروجیکٹ کو ایک زیادہ مربوط، محفوظ اور ٹیکنالوجی کے زیر اثر چلنے والے گورننس ماڈل کی طرف ایک قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں کارکردگی، شفافیت اور شہری لچک  کو بہتر بنانا ہے۔