میڈیا رپورٹس کے مطابق بائننس نے بدھ کے روز دائر کیے گئے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے ایک ہتک آمیز رپورٹ شائع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بائننس نے کمپنی کے ذریعے ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں کو ایک ارب ڈالر کی منتقلی سے متعلق اندرونی تحقیقات ختم کر دی ہیں۔

بائننس کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی کے تعمیل (کمپلائنس) عملے کو تحقیقات میں ان کے کردار کی وجہ سے برطرف کیا گیا اور ایران سے متعلق تحقیقات پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بائننس نے خبر کی اصلاح کے لیے ڈاؤ جونز سے رابطہ کیا، تاہم کمپنی نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔

بائننس کا الزام ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنے حریف اخبار نیویارک ٹائمز سے مقابلہ کرنے کے لیے عجلت میں خبر شائع کی اور اس عمل سے بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اخبار اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے۔

بائننس کا کہنا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد امریکی کانگریس کے ارکان نے کمپنی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس سے بائننس کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

کمپنی نے عدالت سے غیر متعینہ ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں تعزیری ہرجانہ بھی شامل ہے۔

یہ مقدمہ نیویارک کے علاقے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بائننس کو اس سے قبل بھی ان لین دین کے حوالے سے قانونی کارروائیوں کا سامنا رہا ہے جن کے بارے میں الزام تھا کہ ان سے مبینہ طور پر دہشت گرد گروپوں کو فائدہ پہنچا۔

کمپنی نے نومبر 2023 میں امریکی اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی خلاف ورزی کا اعتراف بھی کیا تھا۔