برائٹ ڈیٹا جو ماضی میں لومیناٹی کے نام سے جانی جاتی تھی، دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا ریسیڈنشیل پراکسی نیٹ ورک چلاتی ہے، جس میں 400 ملین سے زائد ریسیڈنشیل آئی پی ایڈریسز شامل ہیں۔
اس نیٹ ورک کا بڑا حصہ ان ایس ڈی کیز سے حاصل ہوتا ہے جو مفت صارف ایپس میں شامل کی جاتی ہیں اور ایک سادہ آپٹ اِن عمل کے ذریعے فعال ہوتی ہیں۔
یہ انکشافات 5 جون کو انکلوڈ سیکیورٹی اور آزاد محقق بوچوڈی کی جانب سے جاری کیے گئے، جنہوں نے رازداری سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔
اس طریقہ کار میں صارف کے گھریلو آئی پی ایڈریس اور انٹرنیٹ کنکشن کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس سے براہِ راست ڈیٹا چوری نہیں ہوتی، تاہم یہ صارف کے گھریلو انٹرنیٹ کنکشن اور اس کی بینڈوڈتھ کو کسی دوسرے ادارے کے اسکریپنگ پلیٹ فارم کا حصہ بنا دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اسکریپنگ جابز منتقل کرنے والے پیئر چینل میں مناسب توثیق کے نظام کی کمی پائی گئی ہے۔ آئی او ایس آلات پر یہ ٹریفک فعال وی پی اینز کو بھی نظر انداز کر سکتی ہے اور عام سیکیورٹی نگرانی کے ٹولز سے پوشیدہ رہتی ہے۔ بیٹری کی حالت شدید متاثر نہ ہونے کی صورت میں آلہ پس منظر میں مسلسل ڈیٹا منتقل کرتا رہتا ہے۔
❗️Update: Bright Data calls itself "inherently safer and more ethical."
— International Cyber Digest (@IntCyberDigest) June 6, 2026
But its SDK turns Samsung/LG TVs into scraping exit nodes with no signing, no auth, no attestation. Less secure than typical malware C2 according to a recent analysis.
And how is routing scraping through… https://t.co/zh28ChdGD0 pic.twitter.com/HoskdiIhzH
مزید تحقیق سے صارف کی رضامندی حاصل کرنے والی اسکرین اور ایس ڈی کے کے حقیقی طرزِ عمل کے درمیان نمایاں فرق بھی سامنے آیا ہے۔ مثال کے طور پر، روکو چینل کی پیٹ فلکس جیسی ایپس صارفین کو یہ تاثر دیتی ہیں کہ ان کا کنکشن صرف کبھی کبھار استعمال کیا جائے گا، جب کہ ایس ڈی کے کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ ماہانہ 200 گیگا بائٹ تک پراکسی ٹریفک منتقل کر سکے۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کے باعث اس پراکسی ماڈل کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ بڑی سائبر سیکیورٹی کمپنیاں ڈیٹا سینٹر آئی پیز کو بلاک کر دیتی ہیں، اس لیے اے آئی ڈیٹا ہارویسٹرز اینٹی بوٹ نظاموں سے بچنے کے لیے ریسیڈنشیل انٹرنیٹ کنکشنز کا سہارا لیتے ہیں۔
اگرچہ گوگل، ایمیزون اور روکو جیسے پلیٹ فارمز نے حالیہ برسوں میں بیک گراؤنڈ پراکسی ایس ڈی کیز پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم برائٹ ڈیٹا اب بھی سیمسنگ کے ٹائزن اور ایل جی کے ویب او ایس جیسے پلیٹ فارمز کی معاونت کر رہی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو صارفین اپنی بینڈوڈتھ اور رازداری کا تحفظ چاہتے ہیں، وہ برائٹ ڈیٹا کے مخصوص کنکشن ڈومینز کو بلاک کرنے کے لیے راؤٹر سطح کے ٹولز، جیسے پائی ہول یا نیکسٹ ڈی این ایس، استعمال کر سکتے ہیں۔ اس طرح آلات کو خفیہ ریلے نوڈز کے طور پر استعمال ہونے سے مؤثر طور پر روکا جا سکتا ہے۔







