چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی کوانٹم ریڈار میں استعمال کی جا سکتی ہے، جو ایسے اسٹیلتھ طیاروں کا سراغ لگا سکتی ہے جو عام ریڈار پر نظر نہیں آتے، جیسے امریکی ساختہ ایف-22 ریپٹر۔ یہ طیارے ریڈار کی لہروں کو جذب یا موڑنے والی کوٹنگز استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ نظروں سے پوشیدہ رہیں۔

رپورٹ کے مطابق، کوانٹم ریڈار فوٹونز کے کوانٹم سگنیچر کا استعمال کرتا ہے۔ جب یہ فوٹون کسی طیارے سے ٹکراتے ہیں، تو ان کی کوانٹم خصوصیات تبدیل ہو جاتی ہیں۔ چونکہ کوانٹم مکینکس کے "نو کلوننگ تھیورم" کے مطابق ان فوٹونز کی ہوبہو نقل ممکن نہیں، اس لیے جھوٹے سگنلز سے دھوکا دینا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نظریاتی طور پر یہ نظام امریکی اسٹیلتھ طیاروں کو بھی شناخت کر سکتا ہے، جو خطے میں دفاعی توازن کے لیے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔


یہ سنگل فوٹون ڈیٹیکٹر چین کے صوبہ انہوئی میں قائم کوانٹم انفارمیشن انجینئرنگ ریسرچ سینٹر نے تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی وہیکل برانڈ زیکر کی آسٹریلیا میں شاندار کامیابی، 25 سو سے زائد یونٹس کا آرڈر موصول

چینی سائنس دان فانگ یوچیانگ کے مطابق، سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ ایک چھوٹے کریو کولر کے اندر کم درجہ حرارت، کم شور اور کثیر چینلز کا امتزاج پیدا کیا جائے۔ ٹیم نے تین سال کی محنت کے بعد اس آلے کا درجہ حرارت منفی 120 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس سے شور میں 90 فیصد کمی اور حساسیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر تانگ شی باؤ کے مطابق، یہ ایجاد چین کو کوانٹم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی پرزہ جات میں خودکفیل بناتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب چین کے مختلف تحقیقی اداروں کو فراہم کی جا رہی ہے اور مستقبل میں اسے اگلی نسل کے کوانٹم کمیونی کیشن نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی عملی میدان میں اپنی صلاحیت ثابت کر دیتی ہے، تو دنیا میں ریڈار اور انٹیلیجنس نظام کی تعریف ہی بدل جائے گی۔