یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں صرف 16 فیصد ٹیلی کام ٹاورز فائبرائزڈ ہیں، تاہم حکومت اس شعبے میں تیزی سے پیشرفت کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گھریلو سطح پر فائبر کنکٹیویٹی بڑھانے کے لیے فائبرائزڈ ہوم پاسز کو موجودہ 20 سے 30 لاکھ سے بڑھا کر آئندہ دو سال میں ایک کروڑ تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ یہ اہداف قومی فائبرائزیشن حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد براڈ بینڈ رسائی کو وسعت دینا اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کو ممکن بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر فائبر بچھانے کے لیے رائٹ آف وے چارجز ختم کر دیئے گئے ہیں تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی کنکٹیویٹی میں بھی اہم پیشرفت کی ہے اور دو سے تین نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز شامل کی گئی ہیں، جن میں سے دو رواں سال جب کہ ایک اگلے سال فعال ہوگی، جس سے عالمی بینڈوڈتھ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ ڈیٹا ٹرانزٹ حب بننے کیلئے معاہدے کر رہا ہے، جب کہ چین سے کراچی تک ڈیٹا روٹس پہلے ہی فعال ہیں اور واخان کوریڈور کے ذریعے متبادل راستے بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔
وزیر آئی ٹی نے کہا کہ ملک میں ڈیٹا کے بڑھتے استعمال کے باعث اسپیکٹرم کی کمی کا سامنا تھا، جسے دور کرنے کے لیے حال ہی میں 480 میگا ہرٹز کا بڑا اسپیکٹرم آکشن کیا گیا، جس کے بعد مجموعی اسپیکٹرم 750 میگا ہرٹز سے تجاوز کر گیا ہے، جو فور جی کی بہتری اور فائیو جی کے آغاز میں مدد دے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 98 فیصد صارفین موبائل براڈ بینڈ پر انحصار کرتے ہیں جبکہ صرف 2 فیصد کو فائبر نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہے، جو ایک بڑا انفراسٹرکچر خلا ظاہر کرتا ہے۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں تعلیم، صحت، لاجسٹکس اور قومی سلامتی جیسے شعبے شامل ہیں۔ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پروگرامز کی حمایت کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے نجکاری، عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کرلیے
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک جامع ڈیجیٹل شناختی نظام اور قومی ڈیجیٹل ریگولیٹری پلیٹ فارم متعارف کرایا جا رہا ہے، جب کہ قوانین کو جی ڈی پی آر کے مطابق ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ سے زائد آبادی اور بڑی نوجوان آبادی کے ساتھ ایک وسیع مارکیٹ ہے، جہاں 20 کروڑ موبائل اور 15 کروڑ انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنا رہی ہے، جب کہ ’راست‘ ڈیجیٹل ادائیگی نظام ملک کو کیش لیس معیشت کی طرف لے جا رہا ہے اور یورپی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔







