اجلاس  کے دوران عامر ابراہیم کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، ورلڈ بینک گروپ اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے سینئر حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان میں معاشی استحکام، نجی سرمایہ کاری کے فروغ اور ڈیجیٹل معیشت کے امکانات پر  گفتگو کی گئی۔

 ان ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن، ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام نہ صرف معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ طویل المدتی ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔

وفد نے اس موقع پر فِن ٹیک، کلاؤڈ سروسز اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کے شعبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ ملک میں جدید اور شفاف معاشی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔

اجلاسوں کے دوران پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول، اصلاحاتی اقدامات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان میں جاری ڈیجیٹل پیش رفت میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

دورے کے دوران جیز ورلڈ کے وفد نے امریکی پالیسی ساز اداروں اور تھنک ٹینکس، بشمول اٹلانٹک کونسل، کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی ایجنڈے اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے پر بات چیت ہوئی۔

مزید برآں، وفد نے ہارورڈ بزنس اسکول پاکستان کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، کنیکٹیویٹی اور جدت کے ذریعے معاشی ترقی کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔

اس موقع پر عامر ابراہیم نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اب صرف ایک ٹیکنالوجی کا رجحان نہیں بلکہ معاشی استحکام اور شمولیتی ترقی کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے مالی شمولیت بڑھانے، شفافیت بہتر بنانے اور طویل المدتی غیر ملکی و نجی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کی عالمی سطح کی نمائندگی پاکستان کے ڈیجیٹل سیکٹر کے لیے مثبت پیش رفت ہے، جو ملک کی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔