اس ورکشاپ کا مقصد ڈیلیوری سروس سے وابستہ موٹر سائیکل سواروں کو محفوظ ڈرائیونگ کے اصولوں سے آگاہ کرنا اور انہیں روزمرہ ٹریفک صورتحال میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی تربیت دینا تھا۔
پروگرام کے دوران رائیڈرز کو ہیلمٹ کے لازمی استعمال، موٹر سائیکل کی مکمل فٹنس، رفتار کی پابندی اور ٹریفک قوانین کی پاسداری سے متعلق تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس کے علاوہ انہیں نئے ای چالان سسٹم کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا تاکہ وہ جدید ٹریفک مینجمنٹ نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
کراچی ٹریفک پولیس کے افسران نے اس موقع پر کہا کہ شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ڈیلیوری سروسز کے پھیلاؤ کے باعث رائیڈرز کی تربیت انتہائی ضروری ہو گئی ہے تاکہ حادثات کی شرح میں کمی لائی جا سکے۔
فوڈ پانڈا انتظامیہ کے مطابق کمپنی اپنے رائیڈرز کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اسی مقصد کے تحت ایسے تربیتی سیشنز کا انعقاد مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا،محفوظ ڈیلیوری نہ صرف رائیڈرز بلکہ شہریوں کے لیے بھی بہتر اور قابل اعتماد سروس کو یقینی بناتی ہے۔
پولیس حکام نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال، ٹریفک قوانین کی سختی سے عملداری اور نجی کمپنیوں کے تعاون سے ہی شہر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں فوڈ پانڈا کا یہ اقدام قابلِ ستائش ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے پاکستانی بینکوں میں کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی
ماہرین کے مطابق آن لائن ڈیلیوری سروسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے، لہٰذا ایسے تربیتی پروگرام شہری حفاظت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
دوسری جانب شہریوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نجی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کام کریں تو ٹریفک حادثات میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ مرحلے میں شہر کے دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ رائیڈرز کو محفوظ ڈرائیونگ کی تربیت دی جا سکے۔







