کمیٹی نے ان سائنسدانوں کی اس کامیابی کو سراہا، جنہوں نے یہ دکھایا کہ کوانٹم دنیا کی عجیب و غریب خصوصیات کو ایک ایسے نظام میں ظاہر کیا جا سکتا ہے جسے ہاتھ میں تھاما جا سکے۔

کلارک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ یہ جان کر مکمل طور پر حیران رہ گئے کہ انہوں نے یہ انعام جیت لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں 1980 کی دہائی میں کی گئی اپنی تحقیق کے دوران انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام کسی دن نوبل انعام کا باعث بنے گا۔

کوانٹم میکانکس وہ نظریہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ مادہ اور توانائی ایٹمی یا ذیلی ایٹمی سطح پر کس طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ یہ نظریہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کوئی ذرہ بظاہر ناقابلِ عبور رکاوٹ سے بھی گزر سکتا ہے ایک عمل جسے "کوانٹم ٹنلنگ" کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جب ذرات کی بڑی تعداد شامل ہو، تو یہ کوانٹم اثرات عام طور پر غائب ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک ایٹم کسی رکاوٹ سے گزر سکتا ہے، مگر ایک ٹینس بال  جو اربوں ذرات پر مشتمل ہوتی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتی۔

رپورٹ کے مطابق تینوں سائنسدانوں نے اپنے تجربات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ کوانٹم ٹنلنگ کو میکروسکوپک پیمانے پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

1984 اور 1985 میں انہوں نے ایک سپر کنڈکٹنگ برقی نظام تیار کیا جو ایک جسمانی حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہو سکتا تھا بالکل اسی طرح جیسے کوئی ٹینس بال رکاوٹ کے پار گزر جائے۔

2003 کے نوبل انعام یافتہ فزکس دان انتھونی لیگیٹ نے ان سائنسدانوں کے کام کا موازنہ ایرون شروڈنگر کے مشہور فکری تجربے شروڈنگرز کیٹ سے کیا۔

شروڈنگر نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ اگر ایک بلی کو تابکار آلے کے ساتھ بند خانے میں رکھا جائے تو جب تک اسے دیکھا نہ جائے، وہ بیک وقت زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں سمجھی جا سکتی ہے۔ اس تجربے کا مقصد کوانٹم میکانکس کی متضاد نوعیت کو واضح کرنا تھا۔

لیگیٹ کے مطابق، کلارک، ڈیوریٹ اور مارٹنیس کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر بھی کوانٹم بظاہر وہی برتاؤ کرتے ہیں جو نظریہ پیش گوئی کرتا ہے۔

کلارک نے کہا کہ ان کی تحقیق نے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً موبائل فون اور دیگر آلات کی ترقی کی راہ ہموار کی۔ نوبل کمیٹی کے مطابق، آج کوئی ایسی جدید ٹیکنالوجی نہیں جو کوانٹم میکانکس پر انحصار نہ کرتی ہو، بشمول موبائل فون، کیمرے اور فائبر آپٹک کیبلز اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال نوبل فزکس انعام جیفری ہنٹن کو دیا گیا تھا،جنہیں اے آئی کا گاڈ فادربھی کہا جاتا ہے

دوسری جانب اس سال کے نوبل انعام کے ساتھ 11 ملین سویڈش کرونر (تقریباً 10 لاکھ امریکی ڈالرز) کی رقم بھی دی جا رہی ہے۔