خبر رساں نشریاتی ادارے ڈان کے مطابق گوادار کے قریب سمندر میں مقامی ماہی گیروں نے چار برائیڈز وہیلز دیکھیں ماہی گیروں نے فوری طور پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کو رپورٹ کیا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ وہیلز ساحلی پانیوں کی طرف خوراک کی تلاش میں جا رہی تھیں۔


مزید براں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق برائیڈز وہیل ایک نایاب قسم ہے جو گرم اور معتدل سمندروں میں پائی جاتی ہے اور بنیادی طور پر سارڈین، اینچووی اور میکریل مچھلی کھاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ دنیا میں کم مطالعہ شدہ اور آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں ڈیٹا ڈیفیشنٹ درج ہے پاکستان میں یہ وہیلز بل، عربی ہمپ بیک وہیل کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کہا کہ یہ نایاب مشاہدات ہمارے ساحلی ماحولیاتی نظام کی صحت کی علامت ہیں اور انہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے شہری سائنسی پروگرام کے تحت ماہی گیروں اور عوام کو مشاہدات رپورٹ کرنے کی ترغیب دی ہے۔

واضع رہے کہ گزشتہ سال بلوچستان کے ساحل پر مردہ اور پھنس گئی برائیڈز وہیلز کی رپورٹیں بھی سامنے آئیں مقامی ماہی گیر اور ماہرین نے مل کر وہیلز اور ڈولفن کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق یہ مشاہدات ساحلی حیاتیات کے تحفظ کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔