خبر رساں نشریاتی ادارے ڈان کے مطابق گوادار کے قریب سمندر میں مقامی ماہی گیروں نے چار برائیڈز وہیلز دیکھیں ماہی گیروں نے فوری طور پر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کو رپورٹ کیا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ وہیلز ساحلی پانیوں کی طرف خوراک کی تلاش میں جا رہی تھیں۔
مزید براں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق برائیڈز وہیل ایک نایاب قسم ہے جو گرم اور معتدل سمندروں میں پائی جاتی ہے اور بنیادی طور پر سارڈین، اینچووی اور میکریل مچھلی کھاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دنیا میں کم مطالعہ شدہ اور آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں ڈیٹا ڈیفیشنٹ درج ہے پاکستان میں یہ وہیلز بل، عربی ہمپ بیک وہیل کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے کہا کہ یہ نایاب مشاہدات ہمارے ساحلی ماحولیاتی نظام کی صحت کی علامت ہیں اور انہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے شہری سائنسی پروگرام کے تحت ماہی گیروں اور عوام کو مشاہدات رپورٹ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
A rare sighting off the coast of Gwadar!
— WWF-Pakistan (@WWFPak) October 23, 2025
Earlier today, a group of four Bryde’s whales was seen near Gwadar (Demi Zur) by local fishers, who immediately reported the sighting to WWF-Pakistan as part of our citizen science initiative.
The whales were spotted by a fishing boat… pic.twitter.com/wve4GqUOPl
واضع رہے کہ گزشتہ سال بلوچستان کے ساحل پر مردہ اور پھنس گئی برائیڈز وہیلز کی رپورٹیں بھی سامنے آئیں مقامی ماہی گیر اور ماہرین نے مل کر وہیلز اور ڈولفن کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق یہ مشاہدات ساحلی حیاتیات کے تحفظ کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔






