سام سنگ Galaxy A57 کی تفصیلات اس ہفتے چینی ریگولیٹری ادارے TENAA کی سرٹیفکیشن کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ لیکس کے مطابق یہ اسمارٹ فون 6.6 انچ FHD+ ڈسپلے کے ساتھ آئے گا، جس کے ڈائمینشنز 161.5 × 76.8 × 6.9 ملی میٹر ہوں گے، جب کہ وزن 182 گرام بتایا جا رہا ہے۔
فون میں 5,000 ایم اے ایچ بیٹری دی گئی ہے، جو 45 واٹ فاسٹ چارجنگ کو سپورٹ کرے گی۔ کیمرا سیٹ اپ کی بات کی جائے تو Galaxy A57 میں 50 میگا پکسل کا پرائمری کیمرا، 12 یا 13 میگا پکسل الٹرا وائیڈ لینز اور 5 میگا پکسل میکرو کیمرا شامل ہونے کا امکان ہے۔
سیلفیز اور ویڈیو کالنگ کے لیے 12 میگا پکسل فرنٹ کیمرا دیا جائے گا۔ ڈیوائس 256 جی بی اسٹوریج کے ساتھ 8 جی بی یا 12 جی بی ریم آپشنز میں دستیاب ہوگی۔
Galaxy A57 میں سام سنگ کا نیا اور ابھی تک باضابطہ طور پر متعارف نہ کرایا گیا Exynos 1680 چِپ سیٹ استعمال کیا گیا ہے، جو آکٹا کور پروسیسر پر مشتمل ہے اور 2.9 گیگا ہرٹز تک کی رفتار فراہم کرتا ہے۔
ڈسپلے میں 16 ملین رنگوں کی سپورٹ دی گئی ہے، جس سے AMOLED اسکرین ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ سیکیورٹی کے لیے ان ڈسپلے فنگرپرنٹ سینسر اور فیس ریکگنیشن فیچر شامل ہوگا۔
لازمی پڑھیں: ساڑھے دو کروڑ کی گاڑی پاکستان میں لانچ، خصوصیات کیا ہیں؟
دوسری جانب گوگل Pixel 10a کی لانچ بھی فروری 2026 میں متوقع ہے، تاہم اس کی مکمل تکنیکی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق Pixel 10a اور Galaxy A57 کی قیمتیں تقریباً ایک جیسی ہوں گی، جب کہ سام سنگ کا Galaxy A37 ان دونوں سے تقریباً 100 ڈالر کم قیمت پر دستیاب ہوگا۔
ٹیک ماہرین کے مطابق مڈ رینج اسمارٹ فون مارکیٹ میں مقابلہ دن بدن سخت ہوتا جا رہا ہے، جہاں کمپنیاں کم قیمت میں بہتر ڈسپلے، طاقتور کیمرے، بڑی بیٹری اور فاسٹ چارجنگ جیسی خصوصیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
Galaxy A57 کی 45 واٹ فاسٹ چارجنگ اور 256 جی بی اسٹوریج کو اس سیگمنٹ میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابتدائی 2026 میں عالمی مارکیٹ کے حالات قیمتوں میں معمولی اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، تاہم دونوں ڈیوائسز ان صارفین کے لیے پرکشش ثابت ہو سکتی ہیں جو روزمرہ استعمال کے لیے طاقتور مگر نسبتاً سستے اسمارٹ فون کی تلاش میں ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق Pixel 10a اور Galaxy A57 کے درمیان مقابلہ 2026 میں مڈ رینج اسمارٹ فونز کے معیار اور توقعات کا تعین کرے گا، جہاں گوگل سافٹ ویئر اپڈیٹس اور کیمرا پراسیسنگ میں برتری رکھتا ہے، جب کہ سام سنگ ڈسپلے اور ہارڈویئر فیچرز کے ذریعے صارفین کو متوجہ کرنے کی کوشش کرے گا۔







