نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس ہفتے انڈیا میں سرمایہ کاری اور معاہدوں کے اعلانات میں مصروف ہیں، جہاں عالمی رہنما اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات مصنوعی ذہانت کے مواقع اور درپیش چیلنجز پر غور کر رہی ہیں۔
گوگل کا یہ اقدام اکتوبر میں کیے گئے اس وعدے کا تسلسل ہے جس کے تحت کمپنی نے امریکا سے باہر اپنا سب سے بڑا مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے پانچ برسوں میں 15 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت نیا مرکز انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کے ساحلی شہر وشاکھاپٹنم، جسے ویزاگ بھی کہا جاتا ہے، میں قائم کیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ انڈیا کو سنگاپور، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا سے ملانے کے لیے تین نئے زیرِ سمندر راستے تعمیر کرے گی۔ اس کے علاوہ چار اہم فائبر آپٹک راستے بھی قائم کیے جائیں گے جو امریکا، انڈیا اور جنوبی نصف کرہ کے مختلف مقامات کے درمیان نیٹ ورک کی صلاحیت اور استحکام کو مضبوط بنائیں گے۔
گوگل کے بیان کے مطابق ایک براہِ راست کیبل ویزاگ کو جنوبی افریقہ سے جوڑے گی، جب کہ دوسری سنگاپور تک جائے گی۔ اسی طرح انڈیا کا مالیاتی مرکز ممبئی مغربی آسٹریلیا سے منسلک ہوگا۔
At the AI impact summit our message is clear: we believe India is going to have an extraordinary trajectory with AI, and we want to be a partner.
— Sundar Pichai (@sundarpichai) February 18, 2026
To help, we have launched new America-India Connect subsea cable routes building on our $15B investment in India’s infrastructure,… pic.twitter.com/pb0xH9XbgX
یہ منصوبہ امریکاانڈیا کنیکٹ کے نام سے علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت وشاکھاپٹنم میں ایک نیا بین الاقوامی زیرِ سمندر گیٹ وے قائم کیا جائے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے ویزاگ ایک بڑے عالمی رابطہ مرکز کے طور پر ابھرے گا اور ممبئی اور چنئی میں موجود موجودہ لینڈنگ پوائنٹس کے مقابلے میں متبادل راستے فراہم کرے گا۔
گوگل کے مطابق ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک کے لیے یہ اقدام انڈیا کے ڈیجیٹل ڈھانچے کو مزید مستحکم بنائے گا اور معاشی تحفظ کو فروغ دے گا۔
دوسری جانب امریکی چِپ ساز کمپنی نوائڈا نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ تین انڈین کلاؤڈ کمپیوٹنگ کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر رہی ہے تاکہ ایسے جدید پروسیسر فراہم کیے جا سکیں جو مصنوعی ذہانت کے نظام کو تربیت دینے اور چلانے میں مددگار ہوں۔
گزشتہ برس سڈینڈ فورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت کی عالمی درجہ بندی میں انڈیا نے نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے جنوبی کوریا اور جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اور تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور بلند عزائم کے باوجود امریکا اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا۔






