گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج پر جاری اپڈیٹ کے مطابق جی میل ایڈریس تبدیل کرنے سے صارف کا کوئی ڈیٹا ضائع نہیں ہو گا اور نہ ہی نئی ای میل آئی ڈی بنانے کی ضرورت پڑے گی۔ یہ سہولت خاص طور پر اُن صارفین کے لیے خوشخبری ہے جو برسوں سے ایسے ای میل ایڈریس استعمال کر رہے ہیں جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ای میل ایڈریس تبدیل کرنے سے متعلق نئی ہدایات فی الحال گوگل کی سپورٹ ویب سائٹ کے صرف ہندی ورژن پر دستیاب ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز انڈیا یا ہندی بولنے والے ممالک سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم سپورٹ پیج کے مطابق یہ سہولت مرحلہ وار دیگر خطوں میں بھی متعارف کرائی جائے گی، اگرچہ عالمی سطح پر اس کے نفاذ میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
ابھی تک گوگل کے انگریزی سپورٹ پیج پر پرانی معلومات ہی موجود ہیں، جن کے مطابق عام طور پر جی میل ایڈریس تبدیل کرنا ممکن نہیں تھا۔ گوگل نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ کن ممالک میں یہ فیچر پہلے دستیاب ہوگا۔
نئی اپڈیٹ کے تحت جب صارف اپنا جی میل ایڈریس تبدیل کرے گا تو پرانا ایڈریس متبادل کے طور پر برقرار رہے گا۔ یعنی پرانے ایڈریس پر موصول ہونے والی تمام ای میلز نئے ان باکس میں آتی رہیں گی۔ اس کے علاوہ پرانا ایڈریس گوگل کی دیگر سروسز جیسے گوگل ڈرائیو، گوگل میپس اور یوٹیوب میں سائن اِن کے لیے بھی قابلِ استعمال رہے گا۔
اس سے قبل نیا جی میل ایڈریس حاصل کرنے کے لیے صارفین کو نیا اکاؤنٹ بنانا پڑتا تھا اور پھر دستی طور پر ڈیٹا منتقل کرنا ہوتا تھا، جو نہ صرف مشکل تھا بلکہ کئی تھرڈ پارٹی ایپس کے ساتھ مسائل کا سبب بھی بنتا تھا۔
گوگل کے مطابق ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے بعد صارف کا تمام موجودہ ڈیٹا، بشمول ای میلز، پیغامات اور تصاویر، مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔ صارف کسی بھی وقت اپنا پرانا ای میل ایڈریس دوبارہ استعمال بھی کر سکے گا۔
تاہم اس اپڈیٹ کے ساتھ کچھ پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر ای میل ایڈریس تبدیل کرنے کے بعد صارف اگلے 12 ماہ تک نیا جی میل ایڈریس نہیں بنا سکے گا اور نیا منتخب کیا گیا ایڈریس حذف بھی نہیں کیا جا سکے گا۔
گوگل نے اس فیچر سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی، تاہم اطلاعات کے مطابق اس اپڈیٹ کا انکشاف سب سے پہلے یوزر فورمز اور مختلف ٹیکنالوجی کمیونٹیز میں ہوا۔







