فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی کے انوائرمنٹل مائیکرو بائیوم کے ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ صنوبر کے درختوں کے اندر سونے کے ننھے ذرات پائے گئے ہیں جو زمین کے نیچے چھپے ہوئے سونے کے ذخائر کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ یہ حیران کن دریافت سائنسدانوں کے لیے ایک نیا باب کھول رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق ناروے اور فن لینڈ میں اگنے والے صنوبر کے درخت بیکٹیریا کی مدد سے سونے کے ذرات جمع کرتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا اینڈوفائٹس کہلاتے ہیں جو پودوں کے اندر سمبیوٹک تعلق میں رہتے ہیں اور درختوں کی غذائیت اور نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی بیکٹیریا درختوں کی جڑوں کے ذریعے زمین سے سونے کے ذرات کھینچ کر اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔ اس عمل کو بائیو منرلائزیشن کہا جاتا ہے جس میں جاندار اپنے اندر معدنیات کی تشکیل کو کنٹرول کرتے ہیں۔
تحقیق کی سربراہی اولو یونیورسٹی کی ماہر ماحولیات ڈاکٹر کائیسا لیہوسما نے کی۔ ان کی ٹیم نے شمالی فن لینڈ میں کیٹیلا گولڈ مائن کے قریب اگنے والے 23 درختوں کے 138 نمونے حاصل کیے جن میں سے چار درختوں کے نمونوں میں سونے کے ذرات موجود پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں سونے کے ذخائر کی تلاش کے لیے ایک قدرتی اور ماحول دوست طریقہ فراہم کر سکتی ہے۔






