کمپنی کی جانب سے ٹیکساس ریل روڈ کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اسٹارپائپ نامی یہ پائپ لائن اسپیس ایکس کی اسٹاربیس لانچ سائٹ سے منسلک ہوگی، جب کہ اس کی تعمیر کا آغاز آئندہ ماہ متوقع ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس اس وقت اپنے اسٹارشپ راکٹ کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے سینکڑوں ٹینکر ٹرکوں پر انحصار کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق ہر لانچ کے لیے تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار گیلن مائع میتھین درکار ہوتی ہے، جس کی فراہمی ایک بڑا لاجسٹک چیلنج ہے۔
دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اسپیس ایکس مستقبل میں جنوبی ٹیکساس میں قدرتی گیس کی ڈرلنگ کا عمل بھی شروع کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ راکٹ ایندھن کی پیداوار اور فراہمی کا مکمل نظام اپنے کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
کمپنی کے منصوبے کے مطابق اسٹارپائپ پائپ لائن 26 جنوری تک فعال ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد اسپیس ایکس کے مریخ پروگرام اور مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے ایندھن کی فراہمی مزید مستحکم اور مؤثر ہو جائے گی۔







