یہ حیرت انگیز مشاہدات جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے کیے گئے، جن میں مشتری کے ماحول میں ایک غیر معمولی ٹھنڈا علاقہ اور چارج شدہ ذرات کی کثافت میں اچانک اضافہ دیکھا گیا۔
برطانیہ کی نارتھمبریا یونیورسٹی کی محقق کیٹی نولز کے مطابق مشتری کے چاند مسلسل سیارے کے مقناطیسی میدان اور پلازما کے ساتھ تعامل کرتے رہتے ہیں۔
اس تعامل کے نتیجے میں انتہائی توانائی والے ذرات مقناطیسی خطوط کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مشتری کے ماحول سے ٹکراتے ہیں، جس سے قطبی روشنیاں پیدا ہوتی ہیں۔
مشتری کی اورورا تقریباً اسی طرح بنتی ہے جیسے زمین کی قطبی روشنیاں۔ جب سورج کی ہوا میں موجود چارج شدہ ذرات مشتری کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو وہ سیارے کے قطبین کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ جب یہ ذرات ماحول میں داخل ہو کر ایٹموں اور مالیکیولز سے ٹکراتے ہیں تو وہ روشنی خارج کرتے ہیں۔
لیکن مشتری کے چار بڑے چاند آئی او، یوروپا، گینی میڈ اور کالسٹو اس عمل پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں اور اورورا پر اپنے نشانات چھوڑتے ہیں۔
ان اثرات کو مزید مضبوط بنانے والا ایک مظہر آیو پلازما ٹورس کہلاتا ہے۔ مشتری کا چاند آیو پورے نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ آتش فشانی سرگرمی رکھنے والا جسم ہے۔
اس کے آتش فشاں بڑی مقدار میں چارج شدہ ذرات خلا میں خارج کرتے ہیں جو مشتری کے گرد گردش کرتے ہوئے ایک پلازما حلقہ بنا دیتے ہیں۔
جب یہ چاند مشتری کے گرد گردش کرتے ہیں تو وہ اس پلازما اور مقناطیسی میدان کے ساتھ تعامل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آئنز مشتری کے ماحول کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں اور اورورا کو مزید روشن بناتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جاپانی خلائی جہاز کی انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے واپسی کی تیاری، تین ماہ تک مدار میں تجربات کرے گا
ستمبر 2023 میں محققین ہنرک میلن اور ٹام اسٹالارڈ نے جیمز ویب خلائی دوربین سے مشتری کے ماحول کی تصاویر لیں۔ جب کیٹی نولز نے ان تصاویر کا تجزیہ کیا تو انہیں ایک غیر متوقع چیز نظر آئی۔
پانچ تصاویر میں سے چار معمول کے مطابق تھیں، لیکن ایک تصویر میں آیو کے اورورا سے جڑے حصے کے نیچے ایک غیر معمولی ٹھنڈا علاقہ دیکھا گیا۔
عام اورورا کا درجہ حرارت تقریباً 493 ڈگری سیلسیس تھا، جب کہ اس ٹھنڈے حصے کا درجہ حرارت صرف 265 ڈگری سیلسیس تھا۔
اس کے علاوہ وہاں موجود آئنز کی کثافت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ تھی، جو عام علاقوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ اور بعض جگہوں پر 45 گنا تک زیادہ پائی گئی۔
کیٹی نولز کے مطابق اس علاقے میں درجہ حرارت اور ذرات کی کثافت میں تبدیلیاں چند منٹوں کے اندر اندر ہو رہی تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشتری کے ماحول میں توانائی والے الیکٹرانز کا بہاؤ بہت تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔
مشتری کی قطبی روشنیاں نظامِ شمسی کی سب سے طاقتور اورورا سمجھی جاتی ہیں، لیکن یہ واحد مثال نہیں۔ زمین پر بھی اورورا موجود ہیں، مگر زمین کا چاند ان پر کوئی نمایاں اثر نہیں ڈالتا کیونکہ وہ زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ مضبوط تعامل نہیں کرتا۔
البتہ زحل کا چاند انکلیڈس اپنے پانی کے فواروں کے ذریعے خلا میں ذرات خارج کرتا ہے، جو زحل کی اورورا کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مشتری جیسے ٹھنڈے دھبوں کا مظہر وہاں بھی موجود ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف مشتری اور اس کے چاندوں کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ دوسرے بڑے سیاروں اور ان کے چاندوں کے نظام کو سمجھنے میں بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔







