تفصیلات کے مطابق کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے ڈائریکٹر مشہود خان کی جانب سے دیے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور نے اعلان کیا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار مقامی سطح پر تیار کی گئی الیکٹرک گاڑی ملکی پروڈکشن لائن سے تیار ہو کر مارکیٹ میں آئے گی۔

نجی اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے بتایا کہ میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کا مینوفیکچرنگ پلانٹ لاہور میں قائم کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس گاڑی کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم رکھی جائے گی۔

ان کے مطابق یہ اقدام موٹر سائیکل (ٹو وہیلر) استعمال کرنے والوں کو گاڑی (فور وہیلر) کی طرف منتقل ہونے میں مدد دینے کی ایک کوشش ہے۔

ای ڈی بی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ یہ گاڑی ایک بار چارج کرنے پر تقریباً 180 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکے گی، جو اسے روزمرہ سفر کرنے والوں کے لیے ایک عملی اور مناسب انتخاب بناتا ہے۔

حماد علی منصور نے مزید انکشاف کیا کہ حکومت مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں کمی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد عام صارفین کے لیے گاڑیوں کی خریداری کو آسان بنانا اور مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑی آٹوموبائل کمپنیوں کی دیرینہ اجارہ داری اب مؤثر طور پر ختم ہو رہی ہے اور مزید دو سے تین کمپنیوں نے بھی ملک میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ای ڈی بی کے سی ای او کے مطابق آئندہ آٹو پالیسی کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف نے مقامی آٹو سیکٹر کو مکمل تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو صنعتی خود انحصاری کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری میں اصلاحات کی ضرورت ہے، سی سی پی

حماد علی منصور نے بتایا کہ میڈ اِن پاکستان گاڑیوں کو عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کے منصوبے بھی تیار کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے 100 ارب روپے کی برآمدی مراعات مختص کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے ملک بھر میں ای بائیکس اور ای رکشوں کو سستا بنانے کے لیے ایک سبسڈی پلان کا خاکہ بھی تیار کر لیا ہے۔

دریں اثنا مشہود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں ایس ایم ایز اس وقت تقریباً ڈھائی کروڑ افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہیں اور برآمدات میں تقریباً 2.8 ارب روپے کا حصہ ڈال رہی ہیں، جو انہیں ملک کی معیشت میں ایک متحرک قوت بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل، مالی وسائل تک بہتر رسائی اور برآمدی سہولیات کے ذریعے پاکستان کے ایس ایم ایز عالمی سطح پر مسابقت کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں، جو روزگار کے مواقع، معاشی ترقی اور طویل مدتی استحکام کا باعث بنے گا۔