جاری کی گئی دستاویزات میں عام شہریوں کی جانب سے یو ایف اوز دیکھے جانے کی معلومات کے ساتھ ساتھ اپالو مشنز کے خلا بازوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے پراسرار واقعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ان فائلوں کی خفیہ حیثیت ختم کر کے انہیں آن لائن جاری کیا گیا۔ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ غیر معمولی عوامی دلچسپی کے پیشِ نظر یہ ریکارڈ عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک 161 فائلیں جاری کی گئی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مزید ڈیٹا بھی جلد منظرِ عام پر لایا جائے گا۔
اس معاملے میں عوامی دلچسپی اُس وقت مزید بڑھ گئی جب سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ خلائی مخلوق کے وجود سے متعلق کئی سوالات موجود ہیں، اگرچہ انہوں نے خود کبھی ایسی کسی مخلوق کو نہیں دیکھا۔
دستاویزات میں اپالو 11 مشن کے مشہور خلا باز بز ایلڈرن کا بیان بھی شامل ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ مشن کے دوران انہوں نے خلا میں کچھ ایسی اشیا دیکھی تھیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل تھا۔
اسی طرح خلا باز جیک شمٹ نے کہا کہ بعض مناظر ایسے محسوس ہوتے تھے جیسے خلا میں آتش بازی ہو رہی ہو۔
ان دستاویزات میں 1957 کا ایک واقعہ بھی شامل ہے، جس میں ایک شخص نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ اس نے ایک بڑی طشتری نما شے کو زمین سے اوپر اٹھتے دیکھا۔
تاہم ان انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ لوگ اسے تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف قرار دے رہے ہیں، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان فائلوں کے اجرا کا مقصد عوام کی توجہ مہنگائی اور ایران جنگ جیسے اہم مسائل سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔






