اے ایم ڈی کے نائب صدر اور کلائنٹ چینل بزنس کے جنرل منیجر ڈیوڈ میکافی کے مطابق میموری مارکیٹ اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ڈی ڈی آر 5 کی قیمتیں معمول پر آنے میں تقریباً دو سال کا وقت لگ سکتا ہے، صارفین کو ممکنہ طور پر 2028 سے پہلے خاطر خواہ ریلیف کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق یہ خدشات پہلے سے سامنے آنے والی ان پیش گوئیوں کی توسیع ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ 2026 اور 2027 کے دوران بھی ڈی ڈی آر 5 میموری مہنگی رہ سکتی ہے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ بڑے پیمانے پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی جانب سے میموری چپس کی بھاری کھپت ہے، جس نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر میموری بنانے والی کمپنیاں پیداوار میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم اس عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی مینوفیکچررز نے اپنی توجہ ڈی ڈی آر 5 اور اے آئی کے لیے مخصوص میموری کی طرف منتقل کر دی ہے، جس کے باعث پرانی ڈی ڈی آر 4 میموری کی پیداوار بھی محدود ہو گئی ہے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں مارکیٹ کے دونوں حصوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف ڈی ڈی آر 5 کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ دوسری جانب ڈی ڈی آر 4 کی سپلائی بھی محدود ہو گئی ہے، جس سے اس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔

صنعتی ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے صارفین کو متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ کئی کمپیوٹر بنانے والے اور عام صارفین مہنگے ڈی ڈی آر 5 پلیٹ فارمز کے بجائے ڈی ڈی آر 4 پر مبنی سسٹمز کی طرف واپس جا رہے ہیں، کیونکہ یہ نسبتاً سستا آپشن ثابت ہو رہا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض عالمی مارکیٹوں میں ڈی ڈی آر 5 میموری کٹس کی قیمتیں معمول سے چار سے پانچ گنا تک زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ ڈی ڈی آر 4 کی قیمتیں بھی دو سے تین گنا بڑھ گئی ہیں۔ اس کے باوجود ڈی ڈی آر 4 کی مانگ برقرار ہے کیونکہ صارفین نئے سسٹمز میں اپ گریڈ کے بھاری اخراجات سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: یورپی یونین نے میٹا کو حریف اے آئی معاونین کو واٹس ایپ پر مفت میں واپس آنے کا حکم دیا

ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بھی اس صورتحال کے اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق مختلف پی سی اور لیپ ٹاپ ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض مینوفیکچررز نے سپلائی چین دباؤ کے باعث قیمتوں میں نظرثانی بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ میموری چپ کی یہ قلت صرف کمپیوٹر انڈسٹری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات اسمارٹ فونز، ٹیلی کام آلات، گاڑیوں اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اے ایم ڈی نے اس صورتحال کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سپلائی اور طلب کے درمیان عدم توازن مستقبل قریب میں بھی برقرار رہ سکتا ہے۔