غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان خشک اور صحرائی علاقوں کے لیے امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے جہاں پانی کے روایتی ذرائع محدود یا ناپید ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2.1 ارب افراد اب بھی صاف پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہیں۔

محققین کے مطابق یہ ہائیڈروجیل لتھیم کلورائیڈ اور پولی ایکریلامائیڈ پر مشتمل ایک سپنج نما مادہ ہے۔ لتھیم کلورائیڈ ایک انتہائی جاذب نمک ہے، جب کہ پولی ایکریلامائیڈ ایسا پولیمر ہے جو ڈائپر جیسی مصنوعات میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

یہ ہائیڈروجیل فضا سے پانی کے بخارات جذب کرتا ہے اور جب سورج کی روشنی اس مادے کو گرم کرتی ہے تو یہ جذب شدہ نمی کو بخارات کی صورت میں خارج کرتا ہے، جسے بعد میں گاڑھا کرکے پینے کے قابل پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ابتدائی فیلڈ ٹیسٹنگ چلی کے صحرائے اٹاکاما میں کی گئی، جہاں اس مادے کو سیاہ رنگ کی ایلومینیم شیٹ پر نصب کیا گیا تھا۔ یہ شیٹ سورج کی حرارت جذب کرکے ہائیڈروجیل سے پانی خارج کرنے میں مدد دیتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی تجربات میں ہائیڈروجیل صرف 30 مرتبہ نمی جذب اور خارج کرنے کے عمل تک مؤثر رہا، جس کے بعد اس کی ساخت متاثر ہونے لگی۔ اس سے پانی کے معیار اور لاگت سے متعلق خدشات پیدا ہوئے۔

چار سالہ تحقیق کے بعد سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ مسئلہ ہائیڈروجیل رکھنے والی دھاتی سطح میں موجود تھا، جو ایسے آئن خارج کر رہی تھی جو جیل کے اندر نقصان دہ کیمیائی عمل پیدا کرتے تھے۔

محققین نے دھات پر خصوصی اینٹی کورروژن کوٹنگ لگا کر یہ مسئلہ حل کیا، جس کے بعد ہائیڈروجیل 190 سے زائد سائیکلوں تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا اور آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے تک مستحکم ثابت ہوا۔

یاد رہے کہ یہ تحقیق 7 مئی کو معروف سائنسی جریدے ’’نیچر کمیونیکیشنز‘‘ میں شائع کی گئی۔

تحقیق کے شریک مصنف اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کارلوس ڈیاز مارین کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہوا سے پانی حاصل کرنے کی لاگت ایک سینٹ فی لیٹر تک کم کی جا سکتی ہے، جو بوتل بند پانی کی قیمت کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

موجودہ ڈیزائن کے تحت غسل کے تولیے جتنے سائز کے پینل سے روزانہ تقریباً دو لیٹر پانی حاصل کیا جا سکتا ہے، جب کہ محققین مستقبل میں اس پیداوار کو پانچ لیٹر روزانہ تک بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے تیار نہیں، تاہم یہ مستقبل میں خشک اور دور دراز علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔