بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے ڈارک ویب پر دو لاکھ سے زائد فائلیں شائع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں ایپل، ٹیسلا، ٹی ایس ایم سی اور کوالکوم سے متعلق مبینہ خفیہ دستاویزات شامل ہیں۔ تاہم ان دستاویزات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی
ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ٹاٹا الیکٹرانکس نے حساس سسٹمز تک ریموٹ رسائی صرف منتخب ملازمین تک محدود کر دی ہے، جبکہ کمپنی کے تمام دفاتر اور فیکٹریوں میں سائبر سیکیورٹی کے ضوابط مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
ٹاٹا الیکٹرانکس نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی کو ایک سائبر سیکیورٹی واقعہ پیش آیا، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس سے کمپنی کے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے اور تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایپل کی سیکیورٹی ٹیم بھی اس معاملے پر ٹاٹا الیکٹرانکس کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ فوری اور طویل المدتی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: میموری چپس کی بڑھتی لاگت، ایپل نے میک بکس اور آئی پیڈز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
ٹاٹا الیکٹرانکس ایپل کی بھارت میں آئی فون مینوفیکچرنگ حکمت عملی کا اہم حصہ ہے، جبکہ تحقیقی ادارے کاؤنٹر پوائنٹ کے مطابق بھارت 2026 کے دوران دنیا کے تقریباً 26 فیصد آئی فونز تیار کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ورلڈ لیکس نے 630 گیگا بائٹس سے زائد ڈیٹا، جس میں دو لاکھ سے زیادہ فائلیں شامل ہیں، ڈارک ویب پر شائع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس ڈیٹا کی صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔







